منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

کراچی میں بارش جاری،جاں بحق افراد کی تعداد11ہو گئی،تعلیمی ادارے بند،پرچے ملتوی

datetime 30  جولائی  2019 |

کراچی (اے این این) کراچی میں ایک روز کی بارش نے شہر کا نظام دگرگوں کردیا جس سے بیشتر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوگئی اور حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بھی 11 ہوگئی ہے جبکہ شہر میں تعلیمی ادارے بند اور منگل کو ہونے والے پرچے ملتوی کر دئیے گئے ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں راجستھان سے آنے والابارش کا سسٹم کمزور ہوگیا ہے۔

بارش کے سسٹم کا کچھ حصہ سمندر کی طرف چلا گیا ہے جب کہ کچھ شہر کی جانب بڑھ رہا ہے جس کے باعث موسلا دھار بارش کا امکان ہے۔ڈائریکٹر محکمہ موسمیات سردار سرفراز نے بتایا کہ شہر میں شام 5 بجے تک گرج چمک کے ساتھ بادل برس سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ شام کے بعد درمیانے درجے کی بارش کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے لہذا منگل اور بدھ کی درمیانی شب سسٹم ختم ہونے کا امکان ہے۔محکمہ موسمیات کے مطابق سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاون میں 123.7 ملی میٹر ریکارڈ کی گئی جب کہ صدر میں 104، فیصل بیس پر 77، نارتھ کراچی 68، گلشن حدید 64، ناظم آباد 41، لانڈھی 46، اولڈ ائیرپورٹ 57.7، یونیورسٹی روڈ 61 اور جناح ٹرمینل پر 64 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔گزشتہ روز سے مسلسل بارش کے باعث شہر کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی تاحال معطل ہے، شہریوں نے شکوہ کیا ہے کہ کے الیکٹرک کے عملے نے شکایت سننا بھی بند کردی ہے۔ترجمان کے الیکٹرک کا کہنا ہے کہ بارش کی شدت میں کمی کے بعد بجلی بحالی کے کاموں میں تیزی آئی ہے، تمام متاثرہ علاقوں میں بجلی جلد بحال کردی جائے گی۔ریسکیو ذرائع کے مطابق کالا پل کے قریب کرنٹ لگنے سے مزید ایک شخص جاں بحق ہوگیا ہے جس کے بعد کرنٹ لگنے کے مختلف واقعات میں جاں بحق افراد کی تعداد 11 ہوگئی ہے۔نیشنل الیکٹرک پاور ریگیولیٹری اتھارٹی(نیپرا)نے کراچی میں بجلی بندش اور کرنٹ لگنے سے اموات کا نوٹس لے لیا ہے۔

نیپرا کے اعلامیے کہا گیا ہے کہ کے الیکٹرک کے شکایتی مراکز کا صارفین کی ٹیلی فون کالز کا جواب نہ دینا پریشان کن ہے۔اعلامیے میں کے الیکٹرک سے پوچھا گیا کہ میڈیار پورٹس کے مطابق کراچی میں کرنٹ لگنے سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے، متوقع بارشوں کے باوجود حفاظتی اقدامات کیوں نہ کیے گئے؟۔نیپرا نے کے الیکٹرک سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے بجلی کی فوری بحالی کے لیے مثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ شہر میں گزشتہ روز سے مسلسل بارش کے باعث تمام نجی و سرکاری اسکولز اور کالجز بند ہیں۔بارش کے باعث شہر کی جامعات جامعہ کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی اور وفاقی اردو یونیورسٹی نے بھی(منگل) کوہونے والے تمام امتحانات منسوخ کردیے ہیں جن کی نئی تاریخوں کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔دوسری جانب حیدرآباد میں بھی رات بھر وقفے وقفے سے موسلا دھار بارش جاری رہی، مسلسل بارش کے باعث کئی علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل رہی۔اس کے علاوہ ٹھٹہ، تھرپارکر، عمرکوٹ، جیکب آباد، سیہون، ٹنڈوباگو، ٹنڈوالہ یار، بدین اور پڈعیدن سمیت ساحلی پٹی پر وقفے وقفے سے بارش کا سلسلہ جاری ہے۔پنجاب میں بھی مری، لیہ، بھکر، چشتیاں میں بارش ہو ئی ہے جب کہ بلوچستان میں خضدار اور ڈیرا مراد جمالی میں بھی بادل برس رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…