پیر‬‮ ، 05 اکتوبر‬‮ 2026 

100 سے زائد پاکستانی ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید، 58 لاپتہ ،غریب قیدیوں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی، ورثا بھوک و بدحالی میں مبتلا

datetime 29  جولائی  2019 |

کراچی(اے این این) پاکستان کے 100 سے زائد ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید، 58 ماہی گیر گذشتہ کئی سال سے لاپتہ، نئے سال کی ابتدا میں پاکستان نے سیکڑوں ماہی گیروں کو آزاد کیا، جواب میں اب تک صرف 4 پاکستانی ماہی گیر بھارتی جیلوں سے رہا ہوکر واپس گھر پہنچے۔

غریب قیدی ماہی گیروں کے گھروں میں صف ماتم بچھ گئی، ورثا بھوک و بدحالی میں مبتلا۔ پاکستان اور بھارتی کے درمیان سمندری حدود سر کریک کی خلاف ورزی کی آڑ میں غریب ماہی گیروں کی گرفتاری کے متعلق ابھی تک کوئی بھی پالیسی تشکیل نہیں دی جاسکی ہے۔جس کی وجہ سے ماہی گیروں کی گرفتاری کا سلسلہ بند نہیں ہوسکا، دوسری جیلوں میں قید ماہی گیروں کے درست اعداد و شمار کے متعلق دونوں ممالک خاص طور پر بھارت نے انتہائی غیر سنجیدگی اور غیر انسانی رویہ اختیار کر کے پاکستان کے متعدد ماہی گیروں کو قید کردیا ہے۔ اس سلسلے مں مختلف ذرائع کی طرف سے حاصل کردہ اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں پاکستان کے تقریبا 100 سے زائد ماہی گیروں کے قید ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ جبکہ سندھ کے مختلف اضلاع سے ماہی گیروں کی طرف سے حاصل کردہ اطلاعات کے مطابق ٹھٹہ اور سجاول اضلاع کے علاقوں ابراہیم تھیم گوٹھ، غلام حسین بوریو گوٹھ، غلام مصطفی چنڈانی گوٹھ، راجن تھیمور گوٹھ، یعقوب جت گوٹھ، عمر پٹیل گوٹھ اور جنگیسر کے اس وقت 60 سے زائد ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید ہیں، جبکہ کراچی کے علاقوں ریڑھی گوٹھ، مچھر کالونی، مہاجر کیمپ، ابراہیم حیدری، علی اکبر شاہ گوٹھ اور سو کوارٹرز کے 35 سے زائد ماہی گیر بھی بھارتی جیلوں میں اذیت کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔جبکہ ریڑھی گوٹھ کے 3 ماہی گیروں کو بھارتی جیل میں قید کے دوران 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ان کی رہائی کے متعلق کوئی بھی امید نظر نہیں آتی۔

ذرائع کے مطابق 1999 کے سمندری طوفان کے دوران لاپتہ 58 سے زائد پاکستانی ماہی گیروں کا ابھی تک سراغ نہیں لگ سکا ہے، جبکہ ان کے ورثا کی طرف سے لاپتہ ماہی گیر بھارتی جیلوں میں قید ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں سال نو کی ابتدا میں پاکستانی حکومت کی طرف سے خیر سگالی کی طور پر سیکڑوں کی تعداد میں بھارتی ماہی گیروں کو آزاد کیا گیا مگر بھارت سے اب تک صرف 4 پاکستانی ماہی گیر رہا کیے گے، بھارت کی ایسی بے حسی پر قیدی ماہی گیروں کے گھروں میں مایوسی کے سبب صف ماتم بچھی ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور قیدی ماہی گیروں کے ورثا نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ جیلوں میں قید دونوں ممالک کے تمام ماہی گیروں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر رہا کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…