منگل‬‮ ، 18 اگست‬‮ 2026 

توہین آمیز مواد،حکومت کی سوشل میڈیا ویب سائٹس بلاک کرنے کی تیاریاں،ٹوئٹر اور فیس بک کا پاکستان میں کوئی نمائندہ نہیں، حیرت انگیزانکشافات

datetime 26  جولائی  2019 |

اسلام آباد (این این آئی)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے چیئرمین میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ نے تجویز دی ہے کہ حکومت پالیسی بنا کر سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو مقامی سطح پر بلاک کرے یا پی ٹی اے کی تکنیکی صلاحیت بڑھائی جائے۔سینیٹ کی خصوصی کمیٹی کا اجلاس بیرسٹر محمد علی سیف کی سربراہی میں ہوا، جس میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی، وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے حکام نے سوشل میڈیا پر مذہب سے متعلق توہین آمیز مواد کے بارے میں بریفنگ دی۔

چیئرمین پی ٹی اے میجر جنرل (ر) عامر عظیم باجوہ نے بتایا کہ سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد بہت بڑا مسئلہ ہے اور جعلی اکاؤنٹس چلائے جارہے ہیں جبکہ زیادہ تر ویب سائٹس بیرون ملک سے چل رہی ہیں۔انہوں نے دوران اجلاس تجویز دی کہ حکومت یا تو پالیسی بنا کر مکمل طور پر سماجی رابطے کی ویب سائٹس کو مقامی سطح پر بلاک کرے جس طرح چین اور متحدہ عرب امارات نے کیا ہے اور مقامی سطح پر متبادل سماجی روابط کی ویب سائٹس بنائے یا پھر پی ٹی اے کی تکنیکی صلاحیت بڑھائے۔انہوں نے بتایا کہ 2010 سے لے کر اب تک 39 ہزار سے زائد لنکس کو بلاک کیا جاچکا ہے، لوگوں میں آگاہی پیدا کرنے کیلئے اشتہار دیتے ہیں کہ توہین آمیز مواد جرم ہے۔اجلاس کے دوران چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ بچوں کی پورنوگرافی (چائلڈ پورنوگرافی) میں پاکستان کے نمبر ون ہونے سے متعلق غلط فہمیاں ہیں، سال 2015 میں بین الاقوامی اخبار کی رپورٹ میں شائع کیا گیا کہ پاکستان اس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ اس خبر کے اعداد و شمار غلط تھے۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں یقیناً چائلڈ پورنوگرافی ہے لیکن ملک اس میں پہلے نمبر پر نہیں آتا ہم نے پورنوگرافی سے متعلق ساڑھے 8 لاکھ ویب سائٹس بلاک کی ہیں۔چیئرمین پی ٹی اے نے بتایا کہ گستاخانہ مواد کے حوالے سے بھی انہیں عوام کی ساڑھے 8 ہزار شکایات موصول ہوئیں لیکن ہم نے 40 ہزار ویب سائٹس بلاک کیں۔ انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ پاکستان میں ڈارک ویب موجود ہے اور اسے کنٹرول کرنا آسان نہیں ہے،

ڈارک ویب کے ذریعے پراکسی کی بلاک ویب سائٹ کھول دی جاتی ہیں۔پی ٹی اے کے چیئرمین نے کہا کہ حکومت نے ہمیں سوشل میڈیا کے قوانین تیار کرنے کے احکامات دیے ہیں، ہم اس پر کام کر رہے ہیں، جلد پیش کریں گے۔کمیٹی کے اجلاس میں ایف آئی اے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ سائبر کرائمز کے حوالے سے 3 سال میں 32 ہزار شکایات موصول ہوئیں تاہم ایف آئی اے سائبر کرائمز ونگ کے پاس صرف 15 تفتیش کرنے والے اہلکار ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پنجاب سے 15 اور اسلام آباد سے 4 کیسز میں ملوث افراد کو گستاخانہ مواد پر گرفتار کیا گیا، 12 کیسز میں تفتیش جاری ہے۔

دوران اجلاس انہوں نے بتایا زیادہ تر کیسز میں فیس بک جواب نہیں دیتی جبکہ ٹوئٹر نے تو کسی ایک کیس کا بھی جواب نہیں دیا۔اس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ٹوئٹر اور فیس بک کا پاکستان میں کوئی نمائندہ نہیں؟ انہیں کہیں کہ یہاں اپنے نمائندے رکھیں۔بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ گستاخانہ مواد کے حوالے سے قوانین تمام مذاہب کے حوالے سے ہونے چاہیے، سماجی روابط کی ویب سائٹس نے بہت پیسہ کمایا ہے، پاکستان گستاخانہ مواد ڈالنے پر ان ویب سائٹس کا ریونیو تو بلاک کر سکتا ہے۔سینیٹر نے کہا کہ پاکستان میں بھی سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کا نمائندہ ہونا چاہیے جبکہ پی ٹی اے کو مزید بااختیار بنانے کے قوانین بنائے جائیں، ہم پاس کروائیں گے۔ایف آئی اے نے بتایا کہ سائبر کرائمز کے حوالے سے میوچل لیگل اسسٹنٹ ٹریٹی (ایم ایل اے ٹی) قانون پر دستخط کرنے چاہیے کیونکہ 12 انکوائریاں بھی چل رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…