پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

مواصلاتی کمپنی کے کام سے انکار پر فرانس، اسرائیل تناﺅ کا شکار

datetime 5  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد( نیوز ڈیسک)مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں مواصلات کے شعبے میں سروسز فراہم کرنے والی ایک فرانسیسی فرم کی جانب سے اسرائیلی کمپنییوں سے تعاون ختم کرنے کے اعلان پر فرانس اور اسرائیل کے درمیان ایک نئی کشیدگی پیدا ہو گئی ۔ اسرائیلی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک فرانسیسی مواصلاتی کمپنی “اورینج” کی جانب سے خدمات فراہم کرنے سے انکار پر معذرت کے منتظر ہیں اور یہ جاننا چاہتے ہیں کہ “اورینج” گروپ کے بورڈ آف ڈائریکٹر نے اپنی ‘شریک کار’ اسرائیلی کمپنی کے ساتھ کام سے انکار کیوں کیا ہے؟ غیر ملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزارت خارجہ کے ترجمان “ایمانویل نخشون” نے بتایا کہ ان کی حکومت نے فرانسیسی حکام کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں ان سے “اورینج” کی جانب سے اسرائیل میں سروز ختم کرنے کے اعلان پر معذرت کرنے کے ساتھ کام چھوڑنے کی وجہ معلوم کی گئی ہے۔نخشون کا کہنا ہے کہ فرانس میں اسرائیلی سیفر یوسی گال نے بھی فرانسیسی ایوان صدر ، وزارت خارجہ اور وزارت اقتصادیات سے رابطہ کرکے ان سے سرکاری طورپر “اورینج” کے موقف کے بارے میں اس لیے جان کاری کی کوشش کی گئی ہے کیونکہ اس کمپنی میں 25 فی صد شیئرز حکومت کے پاس ہیں۔خیال رہے کہ دو روز قبل اسرائیل میں مواصلاتی شعبے میں کام کرنے والی فرانسیسی کمپنی “اورینج” کے بورڈ آف ڈائریکٹر اسٹیفن ریچر نے نہایت غضبناک لہجے میں کہا تھا کہ ان کی کمپنی اسرائیلی “پارٹنر” کے ساتھ کام کا فیصلہ واپس لیے رہی ہے۔کمپنی کےسربراہ نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی یہودی آباد کاری کو غیرآئینی قرار دیتے ہوئے اسے فلسطینیوں اور اسرائیل کے درمیان امن عمل کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ قراردیا تھا۔”اورینج” کمپنی کے تازہ موقف کو اس معنی میں لیا گیا کہ کمپنی بھی ان دسیوں یورپی کمپنیوں میں شامل ہے جو متنازعہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی منصوبوں پر کام کررہی ہیں۔ متنازعہ علاقوں میں خدمات فراہم کرنا اسرائیل کے سنہ 1967ئ کے علاقوں پر قبضے کو مزید مضبوط بنانے میں تل ابیب کی غیراعلانیہ معاونت سمجھا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ انسانی حقوق کی تنظیمیں عرصہ دراز سے مقبوضہ بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے کی یہودی کالونیوں میں کام کرنے والی غیرملکی کمپنیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی آرہی ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ غیرملکی کمپنیاں سنہ 1967ء کے مقبوضہ اور متنازعہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی قبضہ مضبوط بنانے میں مدد کررہی ہیں ۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…