بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

جج ویڈیو اسکینڈل: میاں طارق کا جسمانی ریمانڈ ، ایف آئی اے کو رضا کارانہ طور پر کونسی 4ڈیوائس دی گئی ،ملزم نے ویڈیو اسکینڈل میں ملوث کن لوگوں کی نشاندہی کر دی

datetime 20  جولائی  2019 |
MIAN TARIQ

اسلام آباد (این این آئی) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی متنازع ویڈیو سے متعلق کیس میں مرکزی ملزم میاں طارق محمود کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا۔میاں طارق محمود کو وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے

بدھ کو گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے پاس تھے، جہاں انہیں ریمانڈ ختم ہونے پر عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت ایف آئی اے کی جانب سے میڈیکل اور پیشرفت رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا کہ تفتیش کاروں کو میاں طارق محمود سے 4 جی ڈیوائس ملی ہے، جس کی فرانزک رپورٹ بھی مثبت آئی تاہم اس دوران میاں طارق محمود نے عدالت کو بتایا کہ یہ ڈیوائس ایف آئی اے کی جانب سے برآمد نہیں کروائی گئی بلکہ ان کی جانب سے رضاکارانہ طور پر ایف آئی اے کو دی گئی۔اس موقع پر ایف آئی اے پراسیکیوٹر نے کہا کہ میاں طارق محمود نے دوران تفتیش اس اسکینڈل میں مبینہ طور پر دیگر لوگوں کے ملوث ہونے کی نشاندہی کی، لہٰذا تحقیقاتی ایجنسی کو مزید تحقیقات کے لیے ریمانڈ میں توسیع چاہیے۔ایف آئی اے پراسیکیوٹر کی استدعا پر میاں طارق محمود کے وکیل نے اعتراض کیا اور کہا کہ تحقیقات مکمل ہوچکی ہے اور مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں ہے، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ ان کے موکل کا بیرون ملک جانے کا تاثر درست نہیں ہے، میاں طارق محمود کا پاسپورٹ 2013 سے ایکسپائر ہے۔ملزم کے وکیل نے بتایا کہ ایف آئی اے کی جانب ملتان میں میاں طارق محمود کے گھر پر مسلسل چھاپے مارے جارہے ہیں جبکہ ان کا بیٹا کئی دنوں سے لاپتہ ہے۔بعد ازاں عدالت نے ایف آئی کو ملزم میاں طارق پر تشدد نہ کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے میاں طارق کو 3 روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…