ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

جعلی اکائونٹس کیس:آصف زرداری اور جج ارشد ملک کے درمیان دلچسپ مکالمے، کمرہ عدالت میں قہقہے گونجنے لگے

datetime 27  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد( آن لائن) احتساب عدالت میں جعلی اکاؤنٹس کیس کی سماعت کے دوران جج ارشد ملک اور سابق صدر آصف زرداری کے درمیان دلچسپ مکالمے ہوئے جبکہ آصف زرداری نے عدالت سے انور مجید کے صاحبزادوں سے بہتر رویہ رکھنے کی درخواست کی ہے۔جمعرات کے روز نیب کی ٹیم سخت سکیورٹی میں آصف زرداری کو لے کر عدالت پہنچی ۔

جہاں سماعت کے موقع پر رحمان ملک، نیئر بخاری، شیری رحمان اور عبدالغنی مجید کے اہلخانہ بھی موجود تھے۔دورانِ سماعت آصف زرداری نے اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے بیٹے عبد المجید غنی کو اپنے ساتھ بٹھا لیااور ان کے ہاتھ میں ہتھکڑی دیکھ کر روسٹرم پر چلے گئے، آصف زرداری نے جج ارشد ملک سے کہا کہ جو کیس بنانا ہے ضرور بنائیں لیکن ان (انور مجید کے بچوں) کے ساتھ رویہ تو بہتر رکھیں، یہ پڑھے لکھے بچے ہیں ان سے بہتر رویہ رکھا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جیل میں بہت رہا ہوں، جیل میں بھی ایسا سلوک نہیں ہوتا، یہ وائٹ کالر کرائم ہے، یہ بچے پڑھے لکھے ہیں، نیب کم سے کم سلوک تو اچھا کرے، عدالت جو بھی فیصلہ کرے مگر سلوک اچھا کریں۔ اس پر عدالت نے استفسار کیا کہ کیا نیب نے ان ملزمان کو ہتھکڑی لگا رکھی ہے؟آصف زرداری نے جواباً کہا کہ یہ ڈکیت نہیں اور نہ ملک دشمن عناصر ہیں، اس پر جج ارشد ملک نے سابق صدر سے مکالمہ کیا کہ یہ سماج دشمن عناصر ہیں۔اس موقع پر جج ارشد ملک نے دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میرے پاس تین ملزم آئے تھے میں نے انہیں سماج دشمن عناصر کہا تھا، وہ ملزمان میرے سامنے آئے اور بولے ہم سماج دشمن نہیں بلکہ ہم اناج دشمن ہیں۔جج کی طرف سے سنائے گئے واقعے پر کمرہ عدالت میں قہقہے گونجنے لگے۔

دورانِ سماعت ملزم عبدالغنی مجید نے میڈیکل سہولیات کی درخواست دی اور کہا کہ نیب نے اسپتال سے اٹھایا ہے، طبی سہولیات دی جائیں۔ ملزم کی استدعا پر جج نے کہا کہ نیب ہیڈ کوارٹر کو کسی ہسپتال میں ہی منتقل نہ کردیں؟ کوئی اندر سے خود کنڈی لگا کر دو دن بیٹھا رہے اس کی طبیعت خراب نہیں ہوتی، جب یہ پتہ چلے کنڈی باہر سے کوئی لگاگیا ہے تو دل گھبراجاتا ہے، اس کیس میں بھی ایسا ہی ہورہا ہے،گرفتار ہوکر بیمار ہوجاتے ہیں۔

جج کے ریمارکس پر آصف زرداری نے کہا کہ ایسے بھی ہم کمزور نہیں صاحب، وہ اور لوگ ہوتے ہوں گے جوڈرتے ہیں، میں نے 13سال قید تنہائی کاٹی ہے، مولا کا کرم ہے مجھے کچھ نہیں ہوا۔جج ارشد ملک نے جواب دیا کہ سب لوگ ایک جیسے نہیں ہوتے۔بعد ازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت 8 جولائی تک ملتوی کردی۔سماعت ختم ہونے پر آصف زرداری جج کے جانے کے بعد بھی کمرہ عدالت میں موجود رہے جب کہ عبدالغنی مجید اور لطیف کھوسہ ان کے ساتھ بیٹھے رہے۔ نیب اہلکار نے سابق صدر سے کہا سر چلیں، اس پر آصف زرداری نے جواب دیا کہ اْدھر جاکر بھی کیا کرنا ہے، اِدھر ہی بیٹھتے ہیں یہاں ٹھنڈی ہوائیں چل رہی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…