بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑیگا ،حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے، آصف زر داری کامشورہ

datetime 20  جون‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئر مین ،سابق صدر آصف زرداری نے کہا ہے کہ مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا ،حساب کتاب بند کیا جائے اور آگے کی بات کی جائے ، سب رورہے کوئی وجہ تو ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا، صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دینا ہوگا ۔

کون کون حساب دیگا؟ ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں ، ایسا نہ ہوسیاسی طاقتوں سے بھی یہ گیند نکل جائے، جو طاقتیں لے کر آئی ہیں انہیں بھی سوچنا چاہیے۔ جمعرات کو سابق صدر آصف زرداری پروڈکشن جاری ہونے پر قومی اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے اور بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہاکہ پہلے تو پروڈکشن آرڈرز جاری کرنے پر سپیکر آفس کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاکہ میں اختر مینگل، ایم کیو ایم ،اپوزیشن لیڈر اور دیگر جماعتوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے میرے پروڈکشن آرڈر کیلئے کوشش کی ۔ انہوں نے کہاکہ سانگھڑ پر اس وقت کپاس کی فصل پر ٹڈی دل کا حملہ ہوا ہے ،حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی کوشش نہیں کی گئی۔انہوں نے کہاکہ کہیں اور ایسا ہوتا تواب تک توسعودی عرب سے امداد آجاتی ہے، ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں۔انہوں نے کہاکہ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ بجٹ ان کا بنایا ہوا نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کے معاشی مسائل سب کے اور مشترکہ ہیں ،پاکستان ہے تو ہم سب ہیں، پاکستان نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں نے نہ کھپے کے نعرے کے وقت پاکستان کھپے کی بات کی۔انہوں نے کہا کہ اگر آئی ایم ایف سے پیسے مل رہے ہیں تو لوگ کیوں رو رہے ہیں۔

ہر انڈسٹری کے بڑے بڑے ایڈ آرہے ہیں کہ ہمیں بچاؤ۔ انہوں نے کہاکہ آئیں حکومت اپوزیشن ملکر معیشت پر کو ئی معاہدہ کرلیں ۔ انہوں نے کہاکہ بجٹ کی بات کریں تو سب رو رہے ہیں ، کوئی وجہ تو ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سرکاری ملازمین کی تنخواہیں بڑھائیں لیکن اس سے زیادہ ٹیکس بڑھا دیا ۔ انہوں نے کہاکہ صنعتکار خوفزدہ ہے کہ پانچ لاکھ چیک پر حساب دینا ہوگا ،کون کون حساب دے گا ۔ انہوںنے کہاکہ حساب کتاب کو چھوڑو ،آگے بڑھو ۔ سابق صدر نے کہاکہ میرے پکڑنے سے پارٹی مضبوط ہوگی ،مجھے پکڑنے سے فرق نہیں پڑے گا ۔ انہوں نے کہاکہ لوگ سوچتے ہیں اگر زرداری کو پکڑا جاسکتا ہے تو پھر انہیں کیوں نہیں ؟۔سابق صدر نے کہاکہ جو انہیں لائے ہیں انہیں بھی سوچنا چاہئے ،ایسا نہ ہو مہنگائی سے تنگ عوام نکل آئیں اور سیاسی جماعتیں پیچھے رہ جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ملک ہے تو ہم ہیں ،ملک نہیں تو کچھ نہیں ۔ انہوں نے کہاکہ میں پہلے بھی جیل سے آتا رہا ہوں، آج پھر یادیں تازہ ہوئی ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ان تمام کا دوستوں کا شکریہ جنہوں نے مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا،ان کا یہ احسان میں زندگی بھر یاد رکھوں گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…