جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

کرپشن سکینڈ ل کے باوجود سیپ بلاٹر فیفا صدرکیسے بنے؟

datetime 1  جون‬‮  2015 |

لندن (نیوز ڈیسک)فیفا کے صدر سیپ بلاٹر فٹبال کی تاریخ کے بدترین سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے محض دو دن بعد ہی مسلسل پانچویں بار فیفا کے سربراہ مقرر ہوئے ہیں۔ امریکہ اور یورپ بھر کی مخالفت مول لینے کے باوجود بھی فیفا صدارت سنبھالنے میں کامیابی نے دنیائے فٹبال کو ورطہءحیرت میں ڈال دیا ہے۔ ہر زبان پر بس ایک ہی سوال ہے کہ سیپ بلاٹر کی ناک کے نیچ کے کرپشن کا بازار گرم رہا۔150ملین ڈالر رشوت میں دیئے گئے اور انہیں معلوم نہ ہوا، یہ کیسے ممکن ہے؟ اس سوال کا جواب بہت آسان ہے۔ سیپ بلاٹر نے اپنے رویئے سے خود کو اس عہدے کیلئے بہترین انتخاب ثابت کیا ہے۔ اس بارے میں نائجیریا کی ساکر فاو¿نڈیشن کے سربراہ اماجو پننک کہتے ہیں کہ وہ سیپ بلاٹر کے پہلی بار فیفا سربراہ منتخب ہونے کے صرف ایک برس بعد1999میں ان سے ملے تھے۔ اس وقت سیپ بلاٹر نے کہا تھا کہ وہ افریقہ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک کیلئے بہت کچھ کرنا چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ فیفا میں شامل چھوٹی ریاستیں خود کو اہم سمجھیں۔ اماجو نے یہ بیان انتخابی عمل کے دوران دیا تھا اور اس موقع پرایسی ہی گواہیوں کی بھرمار تھی۔ سیرالیون میں ایبولا وائرس کی وبا پھوٹنے پر سب سے پہلے امدادی چیک روانہ کرنے والا کوئی اور نہیں بلکہ سیپ بلاٹر تھے۔ سپورٹس تجزیہ کار بریٹ فاریسٹ کہتے ہیں کہ سیپ بلاٹر بے حد چالاک ہیں۔ وہ کرپٹ ہیں یا نہیں، یہ تو وقت ثابت کرے گا تاہم حقیقت یہ ہے کہ وہ بے حد چالاک کھلاڑی ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ وہ دنیا کو کیسے خرید سکتے ہیں۔ سیپ بلاٹر نے افریقی ممالک کو اپنا ہمنوا چھوٹے چھوٹے ترقیاتی پروجیکٹس کے ذریعے بنایا ہے۔ انہوں نے ترقی پذیر ممالک میں2011سے 2014کے بیچ پانچ کھرب 70ارب ڈالر کے ترقیاتی پروجیکٹس کیلئے فنڈز فراہم کئے ہیں۔ یہ سیپ بلاٹر ہی تھے جن کی بدولت افریقہ کو پہلی بار فٹبال ورلڈ کپ کی میزبانی کا اعزاز حاصل ہوا۔ یہ علیحدہ قصہ ہے کہ ان کا سرمایہ پوری طرح فٹبال کی ترقی کیلئے استعمال نہ ہوا اور اس کا بڑا حصہ جیبوں میں گیا تاہم ان اقدامات نے سیپ بلاٹر کو افریقہ میں فٹبال کے خدا کا درجہ دے دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…