جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

آئندہ بجٹ میں حکومت عوام پر کتنے سو ارب روپے کے نئے ٹیکسز لگائےگی ؟ ہوشربا رپورٹ سامنے آگئی

datetime 24  مئی‬‮  2019 |

اسلام آباد(اے این این ) ٹیکس بیوروکریسی کے تشکیل دیے گئے آمدن(ریونیو) کے تفصیلی منصوبے کے مطابق حکومت مالی سال 20-2019 کے آئندہ آنے والے بجٹ میں 7 کھرب 75 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔اس ریونیو منصوبے کو عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے آخری دور میں بھی پیش کیا گیا تھا۔نجی ٹی وی کے مطابق

ریونیو پلان پر نظر ڈالنے اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے سینئر حکام سے تفصیلی بات چیت کے بعد اس کا سیاق و سباق واضح ہوا جس کے تحت اسے تیار کیا گیا تھا۔مذکورہ پلان کو وفاقی کابینہ سے منظور کروانا ابھی باقی ہے جو مئی کے پہلے ہفتے میں کیا جانا تھا لیکن اہم ترین عہدوں پر تبدیلیوں کے باعث ایسا نہیں ہوسکا۔اس حوالے سے جب چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی سے بات کی گئی تو انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ آئی ایم افی کو فراہم کیا جانے والا ریونیو پلان ان کی نظر سے گزرا یا نہیں البتہ انہوں نے یہ ضرور کہا کہ ہم آئندہ سال کے لیے مالی اہداف کو پورا کرنے کے لیے رہنمائی فراہم کررہے ہیں اور اس جانب توجہ دے رہے ہیں کہ اس ہدف میں سے کتنا ٹیکس کے ذریعے پورا ہونے کی توقع کی جاسکتی ہے۔تاہم انہوں نے مالی اہداف یا نئے ٹیکس کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا البتہ ان کا کہنا تھا کہ ان اعداد و شمار کو آئندہ چند روز میں حتمی شکل دے دی جائے گی، آپ کو جلد معلوم ہوجائے گا۔شبر زیدی نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ موجودہ ٹیکس دہندگان پر سختی نہیں کی جائے گی، انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 300 کمپنیاں 85 فیصد ٹیکس ادا کرتی ہیں ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ میں ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی اور کسی اور کے ٹیکس کی ذمہ داری اٹھائے۔واضح رہے کہ آئی ایم ایف کو فراہم کردہ ریونیو پلان کے مطابق حکومت دوسرے بجٹ (21-2020) میں 16 کھرب

40 ارب 30 کروڑ کے ریونیو اقدامات متعارف کروانے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس کے بعد مالی سال(22-2021) 26 کھرب 4 ارب 50 کروڑ کے ٹیکس اقدامات اٹھائے جائیں گے۔آئی ایم ایف نے حکومت کو مالی سال 20-2019 کے لیے 50 کھرب 50 ارب روپے کا ریونیو ہدف دیا تھا تاہم ایف بی آر نے اسے کم کر کے 50 کھرب یا 50 کھرب 20 ارب تک کرنے کا مطالبہ کیا تھا

۔تاہم ریونیو اقدامات کے یہ ابتدائی تخمینے ہیں اور 11 جون کو متعارف کروائے جانے والے بجٹ سے قبل اس میں تبدیلی آسکتی ہے۔آمدن کا یہ تخمینہ اس اندازے پر قائم کیا گیا ہے کہ ملکی معیشت 4 فیصد سالانہ کے اعتبار سے ترقی کرے گی اور مہنگائی کی شرح 9.4 فیصد جبکہ ریونیو کی شرح نمو 13.4 فیصد سالانہ رہے گی۔اگر ان اقدامات پر عمل کیا گیا تو سال 22-2021،جس سال آئی ایم ایف پروگرام ختم ہوگی، تک مجموعی ملکی پیداوار میں ملک کے ٹیکس کی شرح 15.4 فیصدتک بڑھ جائے گی جبکہ حکومت نے ٹیکس دہندگان کی تعداد 19 لاکھ سے بڑھا کر 26 لاکھ کرنے کا تخمینہ لگایا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…