جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ کی ضمانت کافی ہے

datetime 7  مئی‬‮  2019 |

رئیس المحدثین محمد بن اسماعیل البخاری رحمۃاللہ علیہ نے اپنی معرکتہ ا لآ را تالیف صحیح بخاری میں ایک دلچسپ روایت نقل کی ہے کہ محمد ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل میں سے ایک آدمی اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے ایک ہزار دینار قرض مانگا۔ اس نے کہا کہ ٹھیک ہے گواہ لے آؤ دے دیتا ہوں۔ادھار مانگنے والے نے کہا،”کفی باللہ شہیدا، اللہ کی گواہی کافی ہے۔“دینے والے نے کہا ”کوئی ضامن لاؤ۔“

اس نے کہا، ”کفی باللہ وکیلا، اللہ کی ضمانت کافی ہے۔“رقم دینے والے نے کہا ”آپ نے سچ کہا۔“ دونوں میں معاملہ طے ہو گیا۔اور واپسی کا یقین وعدہ دے کر وہ شخص سمندر پار چلا گیا۔ مدت پوری ہونے کے بعد مقروض شخص وہ رقم لے کر واپس کرنے کی غرض سے ساحل پر پہنچا تو کوئی سفینہ نہ ملا۔ بالآ خر ایک درخت کا تنا لے کر اس میں سوراخ کیا اور رقم کے ساتھ ہی ایک خط لکھ کر اس میں ڈال کر وہ سوراخ بند کر دیا اور سمندر میں یہ کہتے ہوئے بہا دیا کہ یا اللہ تو جانتا ہے کہ یہ رقم میں نے تجھے گواہ اور ضامن ٹھہرا کر قرض لی تھی آج میری پوری کوشش کے باوجود سواری نہ ملنے کی وجہ سے میں یہ تیرے سپرد کرتا ہوں تو ہی اسے واپس لوٹا۔یہ لکڑی پانی میں بہا کر وہ شخص واپس لوٹ آیا۔ ادھر دوسرا دوست اپنے قریبی ساحل پر اس کے آنے اور رقم وصول کرنے کی غرض سے آپہنچا تھا۔ وہ انتظار کے بعد واپس جانے لگا تو درخت کا ایک تنا تیرتا ہوا دیکھا۔ سوچا چلو یہی گھر لے جاؤ جلانے کے کام تو آئے گا۔ گھر جا کر لکڑی کو پھاڑا تو اس میں سے ہزار دینار اور خط نکل آیا جس میں تحریر تھا کہ وقت مقررہ پر ساحل سمندر پر آپ کا مال واپس کرنیآیا تھا۔لیکن سواری نہ ملنے کی وجہ سے حاضر نہ ہو سکا۔ پھر اگلے روز وہ مقروض ایک ہزار دینار مزید لے کر اپنے دوست کے گھر پہنچا ”یہ لو رقم کل یہ مجبوری ہوئی تھی۔“ اس نے پوچھا ”کیا پہلے آپ نے کچھ مجھے بھیجا ہے؟“ اس نے ساری بات بتا دی تو صاحب مال نے کہا ”اللہ تعالیٰ آپ کی امانت مجھ تک با سلامت پہنچا دی تھی یہ دوسری رقم آپ لے جائیں، اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو“۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…