اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)ايراني علم الاساطير ماہرين کے مطابق دنیا کا پہلا بادشاہ جمشید يا جم ہے جس نے ايک ہزار سال تک حکومت کی ۔ اس بادشاہ کے زمانے ميں عوام کو ہر طرح کي نعمتيں ميسر ہوا کرتی تھيں ۔ بڑھاپے اور ناتوانی کي لوگوں کو کوئي فکر نہيں ہوا کرتي تھی کيونکہ بارشيں کثرت سے ہونے کي وجہ سے اناج کی فراوانی تھي اور ہر طرح سے لوگ غذائی اجناس ميں خود کفيل تھے ۔
سب سے اہم بات يہ تھی کہ بادشاہ جمشيد اپني عوام کے لئے ايسی حکمت لے کر آيا جو معاشرے ميں سچائي اور دانائی کا باعث بنی ۔اس کے دور حکومت ميں آبادی ميں اس قدر اضافہ ديکھنے ميں آيا کہ رہائش کیلئے جگہ کم پڑنے لگی اور يوں اسے مجبوری کے تحت تين بار رہائشی علاقوں کو وسيع کرنا پڑا { احتمالا زمين سے مراد اس کی حکومت کا علاقہ بھی ہو سکتا ہے } ۔ يہ سلسلہ اس وقت تھم گيا جب خدا نے جمشيد کو يہ خبر دی کہ سردی تمام زندہ موجودات کو ختم کر دے گی ۔ اس لئے اسے چاہئے کہ زمين کے اندر ايک غار نما گڑھا کھودے اور خوبصورت ترين مردوں اور عورتوں ، بہترين خوراک ، جڑی بوٹيوں ، جانوروں اور مقدس آگ کو اپنے ہمراہ اس غار ميں لے جا ۔خدا نے جمشيد سے وعدہ کيا کہ اس جگہ { جنّت } ميں زيادہ سبزہ ، اچھی آب و ہوا ہے جو زمين سے کہيں بہتر ہے اور جہاں کسي بھي طرح کا کينہ اور لالچ نہيں ہے اور وہ جگہ ہر طرح کي اھريمنی صفات سے خالی ہے -جمشيد وہ پہلا شخص ہے کہ جس کو افسانوی داستانوں ميں شاہ ( خشائيتھ ) کے نام سے ذکر ہوا ہے -وہ ايرانی ثقافت ميں موجود افسانوی داستانوں کا ايک قوی ترين بادشاہ ہے کہ جس نے معاشرے ميں طبقانی نظام متعارف کروايا اور لوگوں کو مختلف طرح کے پيشوں مثلا خياطي ، معماري ، حکمت، کشتيراني وغيرہ وغيرہ سے روشناس کرايا ۔ جمشيد کو علاقے کي تمام ملتوں کے
درميان ايک اعلی مقام حاصل رہا ہے ۔ مثال کے طور پر بہت سي عرب تاريخی کتابوں ميں بادشاہ جمشيد کي نيکيوں اور راست بازی کا ذکر ہوا ہے – تخت جمشيد سے اس کی نسبت بھي اسکی بزرگي کي ياد دلاتی ہے -جشن نوروز کے دنوں ميں اس کی تاج پوشي کي تقريب ہوئی اسلئے يہ جشن اسے ہميشہ ياد رہتا اور اس نے نوروز کو دو حصوں عام اور خاص ميں تقسيم کر ديا –
جمشيد کے دوسرے اقدامات ميں اس کا انسان کیلئے جاودانی کا تقاضا تھا کہ جسے اھورا مزدا نے قبول کيا ۔وہ زمين پر بہشت بنانے کي کوشش ميں بھي مصروف تھا ۔جہان کو آباد کرنے کے بعد جمشيد بادشاہ ميں غرور اور تکبر آ گيا اور اس نے خود کو خدا کا درجہ دے ديا اور يوں وہ خدا کے قہر کی زد ميں آيا اور اس کے دشمنوں نے اس کے ملک کو فتح کر ليا۔اس کی جگہ ايک عرب بادشاہ ضحاک نے لے لی جو بےحد ظالم تھا ۔
اس ظالم بادشاہ نے سال ہا سال يہاں حکومت کی اور بعد ميں جمشيد بادشاہ کي آئندہ نسل ميں سے ايک شخص نے دوبارہ قدرت حاصل کرکے ضحاک کو قيد کر ليا ۔ اس نے جمشيد کے دورکی ياد تازہ کي اور اپنی سلطنت کو وسعت دی ۔بادشاہ جمشيد کے اہم اقدامات :1- معاشرے ميں چار طبقاني نظام کو متعارف کيا جن ميں مذھبي پيشوا ، سپاہي ، کاشتکار ، صنعت کار شامل تھے –
ان کا شاہنامے ميں بالترتيب يوں ذکر کيا گيا ہے آتورنيان، تيشتاريان، پَسو ييِ، اُهتوَخوشي -2- جواھرات کو دريافت کيا ،عطر بنایا ، جنگی سازوسامان کي تياری- اس کے علاوہ جولاہے ، درزي ، معمار ، ڈاکٹری اور کشترانی جيسے پيشوں کو معاشرے ميں متعارف کروايا -3- نوروز ميں اس کي تاج پوشی کے جشن کا انعقاد اور ايک اجتماعی معاشرے کے قيام کی وجہ سے وہ لوگوں ميں بےحد مقبول ہو گيا ۔

























