ایک نہایت حسین لونڈی حمام خانہ سے نکلی۔ ایک نوجوان اسے دیکھ کر فریفتہ ہو گیا اور اس کے سامنے آ کر کہا۔ زیناھا للناظرین۔ یعنی ہم نے اسے دیکھنے والوں کے لیے زینت دی۔ اس لونڈی نے اس کے جواب میں یہ آیت پڑھی۔
وحفظنھا من کل شیطان رجیم۔ یعنی ہم نے ہر شیطان مردود سے اس کی حفاظت کی۔ پھر وہ جوان بولا۔ نریدان فا کل منھا و تطمئن قلوبنا۔ یعنی ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ اس سے کھائیں اور ہمارے دل کو آرام ہو۔ لونڈی پھر بولی۔ لن تنالو البر حتیٰ تنفقوا مماتحبون۔ یعنی ہرگز نہ پاؤ گے بھلائی کو جب تک کہ خرچ نہ کرو اس سے جو تم دولت رکھتے ہو۔ جوان نے یوں جواب دیا۔ والدین لایجدون نکاحاً۔ یعنی جن کو وہ چیز نہ ملے جس سے نکاح ہو سکے۔ (تو وہ لوگ کیا کریں؟) اس لونڈی نے فوراً جواب دیا۔ اولٰئک عنھا مبعدون۔ یعنی وہ اس سے دور رہیں گے۔ بالآخر جوان نے ہار کر اور تنگ آ کر کہا۔ لعنۃ اللہ علیک تجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔ اس لونڈی نے فوراً جواب دیا۔ وللذکر مثل حظ الانثیین۔ یعنی (تجھ) مرد کو دو عورتوں کے حصہ کے برابر (لعنت) ہے اس کے علاوہ جوان منہ کی کھا کر خاموش ہوگیا اور ذلیل و خوار ہو کر چلا گیا۔ (لولو الشرع صفحہ 34) اس سے سبق حاصل ہوتا ہے کہ قرآن پاک کا علم عزت و عصمت کا محافظ بھی ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ پہلے زمانہ کی عورتیں بھی بڑی علم والی اور دانا تھیں اور علم اگر ہے تو قرآن و حدیث کا۔

























