حضرت شفیق بلخیؒ فرماتے ہیں کہ ایک روز حضرت ابراہیم بن اوہم بصرے کے بازار سے گزر رہے تھے تو لوگوں نے آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضور! قرآن میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ
’’تم مجھ سے دعا مانگو میں قبول کروں گا اور ہم ایک مدت تک دعا مانگتے رہے ہیں مگر قبول نہیں ہوتی، اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘ حضرت ابراہیم بن ادہمؒ نے جواب دیا کہ اے لوگو! تمہارے دل دس چیزوں سے مردہ ہو گئے ہیں، پھر تمہاری دعا کیسے قبول ہو۔ دس چیزوں کی تفصیل کچھ اس طرح ہے:۔ تم نے خدا کو پہچانا مگر اس کی معرفت کا حق ادا نہ کیا۔ تم نے قرآن پڑھا مگر اس پر عمل نہ کیا۔ تم نے محبت رسولؐ کا دعویٰ کیا مگر ان کی سنت پر عمل نہ کیا۔ تم نے عداوت شیطان کا دعویٰ کیا مگر اس کی مخالفت نہ کی۔ تم نے جنت کو چاہا مگر اس میں جانے کے لیے عمل نہ کیا۔ تم نے جہنم سے پناہ مانگی مگر خود ہی اپنے نفس کو اس میں ڈال دیا۔ تم نے موت کو حق جانا مگر اس کے لیے تیاری نہ کی۔ تم نے بھائیوں کی عیب جوئی کی مگر اپنے عیب نہ دیکھے۔ تم نے اللہ کی نعمتیں کھائیں مگر اس کا شکر ادا نہ کیا۔ تم نے مردوں کو دفن کیا مگر عبرت حاصل نہ کی۔ ان تمام باتوں سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اپنے ظاہر و باطن کو پاک اور صاف ستھرا کرکے اور زبان کو اللہ کی یاد سے معطر کرکے جو دعا بھی مانگی جائے قبول ہوتی ہے اور اگر کوئی ہماری دعا قبول نہ ہو تو یہ ہمارا قصور ہے۔

























