حضرت یزید بن ابی حبیب، جو مصر کے ایک ممتاز حافظ حدیث تھے۔ ایک مرتبہ بیمار پڑے۔ عیادت کے لیے امیر مصر حوثرہ بن سہیل حاضر خدمت ہوا اور کہنے لگا۔ ’’حضرت ایک مسئلہ تو بتائیے۔ جس کپڑے میں مچھر کا خون لگا ہو۔ اس میں نماز ادا ہو جاتی ہے یا نہیں؟‘‘ حضرت یزید بن ابی حبیب نے یہ سن کر منہ پھیر لیا اور گفتگو بند کر دی۔
ان کی ناگواری خاطرکو محسوس کرکے حوثرہ اٹھ گیا۔ اس کو اٹھتے دیکھ کر یزید بن ابی حبیب نے فرمایا، ’’روزانہ خلق خدا کا خون کرتے ہو اور مجھ سے مچھر کے خون کے متعلق مسئلہ پوچھتے ہو۔‘‘ (یاد ماضی صفحہ 25) اس واقعے سے یہ سبق حاصل ہوتا ہے کہ اللہ والے حق بات جابر بادشاہ کے سامنے بھی کہہ دیتے ہیں۔

























