آج کل ہمارے معاشرے میں غیبت کی وبا عام ہے، قرآن وسنت کی روشنی میں واضح فرمائیں کہ غیبت کا شرعی حکم کیا ہے؟ نیز غیبت کی کیا کوئی جائز صورتیں بھی ہیں، اور وہ کیا ہیں؟ یہ سوال مچھ ، بلوچستان سے فرحان خان نے کیا۔اس کا جواب کچھ اس طرح ہے کہ
کسی کے پس پشت اس کے کسی ایسے عیب کا ذکر کرنا جو اس میں موجود بھی ہو اور مقصد اس کی برائی ہو اور اگر اسے اس بارے میں معلوم ہوجائے تو اسے ناگوار گزرے، یہ غیبت ہے، اور یہ گناہِ کبیرہ ہے اور جس پر قرآن وحدیث میں شدید وعیدیں وارد ہوئی ہیں۔ قرآن کریم میں اسے آدم خوری کہاگیا ہے مگر افسوس ہے کہ آج کی محفلیں اس گناہِ بے لذت سے آباد ہیں۔ غیبت کا حکم یہ ہے کہ اسے حلال سمجھ کر کرنا کفر ہے اور نام ذکر کیے بغیر کسی کی غیبت ایسے شخص کے سامنے کرنا جس کے نزدیک وہ شخص متعین اور معلوم ہو، نفاق ہے اور کسی متعین شخص کی غیبت گناہ کبیرہ ہے۔ جب کہ ان صورتوں میں غیبت جائز ہے: ظلم کو دور کرنے کے لیے کسی ایسے شخص کے سامنے غیبت کرنا جو ظلم کو دور کرنے پر قادر ہو، تغییر منکر کی نیت سے قدرت رکھنے والوں کے سامنے غیبت کرنا، شرعی حکم معلوم کرنے کے لیے مفتی کے سامنے غیبت کرنا لیکن نام کو مبہم رکھنا بہتر ہے، کسی کے شر سے بچانے کے لیے اس کی غیبت کرنا جیسے گواہ اور راویوں پر جرح کرنا، اعلانیہ گناہ کرنے والوں کی غیبت کرنا، البتہ صرف اسی گناہ کا تذکرہ جائز ہے جو وہ اعلانیہ کرتے ہیں، مخفی گناہوں کا ذکر جائز نہیں، تعارف کی غرض سے کسی کے عیب کا ذکر کرنا، جیسے کانا، بھینگا وغیرہ، یہ اس صورت میں جائز ہے کہ اس کے بغیر تعارف ناممکن یا مشکل ہو۔ (مشکاۃ المصابيح3 / 1358۔رد المحتار6 / 408)

























