جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

وکیل عدالت میں آخر کالے رنگ کا کوٹ ہی کیوں پہنتے ہیں؟

datetime 19  فروری‬‮  2019 |

دنیا میں ایسی بہت سی چیزیں ہے جو شروع سے ایک ہی سسٹم اور قانون پر عمل کرتے ہوئے چلتی آرہی ہیں۔ بلکل اسی طرح کچھ ایسے پیشے بھی موجود ہے جن میں ملازم ایک ہی جیسے کپڑے پہنتے ہیں۔جیسے ایک ڈاکٹر ہمیشہ سفید کوٹ پہنتا ہے جبکہ ایک وکیل ہمیشہ کالے کوٹ میں عدالت میں دیکھا جائے گا۔

البتہ یہ چیزیں ہمارے سامنے ہوتی ہیں لیکن ان چیزوں کے پیچھے وجہ کیا ہوتی ہے ، وہ جاننے کی ہم کبھی کوشش نہیں کرتے۔تو چلے آج ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ وکیل اور جج کالے رنگ کا کوٹ کیوں پہنتے کوٹ کیوں پہنتے ہیں اور یہ روایت کب سے شروع ہوئی۔رپورٹ کے مطابق سترہویں صدی میں یہ کالے رنگ کا کوٹ وجود میں آیا جب 1685 میں کنگز چارلز وفات پائے، جس کے بعد سے لوگوں نے اپنے بادشاہ کی یاد میں کالے کپڑے پہننا شروع کیے۔ اس واقعے کے بعد وکیلوں کیلئے کالے رنگ کا کوٹ ڈیزائن کر لیا گیا۔ پرانے وقت میں بھی ایسی تصاویر دیکھی جاسکتی ہے جن میں وکیل اور ججز اپنی ڈگری کا ایوارڈ لیتے ہوئے کالے کوٹ میں دیکھے گئے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کالا رنگ ہی کیوں؟ توآپ کو بتاتے چلیں کے اس کے پیچھے بھی ایک وجہ ہے۔ وکیلوں کیلئے کالے رنگ کا کوٹ اس لیےمنظور کیا گیا کیونکہ پرانے وقت میں دوسرے رنگ کے کپڑے میسر نہیں تھے اور بادشاہت کے زمانے میں جامنی رنگ کورایلٹی سمجھا جاتا ہے، جس کے بعد جامنی رنگ نہ ہونے کی وجہ سے کالے رنگ کو بادشاہت کے معنوں میں لیا جانے لگا۔اس کے علاوہ کالا رنگ ، طاقت کے معنوں میں بھی آتا ہے اور اس کا چناؤ وہ لوگ کرتے ہیں جنہیں چیزوں پر اقتدار حاصل ہوتا ہے۔چیزوں پر اقتدار ہونا اور اپنا فیصلہ سنانے کی وجوہات کی بنا پر وکیل اور جج عدالت میں کالے کوٹ کا استعمال کرتے ہیں۔اس کے علاوہ یہ بھی سمجھا جاتا ہے کہ کالا لباس پہننے والے لوگوں کی باتوں میں جان ہوتی ہے اور ان کی شخصیت خوبصورت دکھائی دیتی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…