ایک گاؤں میں ایک نیک آدمی رہتا تھا، وہ اللہ تعالیٰ کی بہت عبادت کرتا تھا اور کفر و شرک کو ناپسند کرتا تھا۔ اس گاؤں میں ایک درخت تھا، گاؤں کے کچھ لوگ اس درخت کی پوجا کرتے تھے، کچھ لوگوں نے اس کی خبر اس نیک آدمی کو دے دی، وہ بہت غصہ ہوا اور اس درخت کو کاٹنے کے لیے نکل پڑا۔ راستے میں اس کی ملاقات ایک شیطان سے ہوئی، وہ شیطان اس وقت انسان کی شکل میں تھا،
شیطان نے اس سے پوچھا، ارے میاں! کہاں جا رہے ہو؟ اس نے جواب دیا، فلاں جگہ ایک درخت ہے، لوگ اس کی پوجا کرتے ہیں، اس کو کاٹنے کے لیے جا رہا ہوں۔ شیطان نے اس کو پٹی پڑھائی، بھائی! تم تو اس کی پوجا نہیں کرتے ہو، پھر تمہارا کیا بگڑ رہا ہے؟ اس کو مت کاٹو۔ اس آدمی نے جواب دیا، ضرور کاٹوں گا۔ اس بات کو لے کر دونوں میں لڑائی ہو گئی، اس نیک آدمی نے شیطان کو زمین پر پٹخ دیا۔ شیطان نے کہا، تم مجھے چھوڑ دو، میں تم سے ایک بات کرنا چاہتا ہوں، چنانچہ اس نے شیطان کو چھوڑ دیا، پھر شیطان نے اس سے کہا! دیکھو، سچی بات تو یہی ہے کہ درخت کاٹنے سے تم کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا، اس لیے تم درخت مت کاٹو، ہم تم کو روزانہ دو دینار (سونے کے دو سکے) دے دیا کریں گے، اس میں تمہارا فائدہ ہے۔ اس آدمی نے کہا، وہ سکے ہمیں کہاں ملیں گے؟ شیطان نے کہا، جب صبح کو سوکر اٹھوگے تو اپنے تکیہ کے نیچے سے لے لینا، اس پر وہ آدمی راضی ہو گیا اور وہیں سے واپس ہو گیا۔ جب صبح ہوئی تو سچ مچ اس کو تکیہ کے نیچے سے دو دینار (سونے کے دو سکے) ملے، وہ بہت خوش ہوا لیکن اگلی صبح اس کو تکیہ کے نیچے کچھ نہیں ملا، پھر اس کو غصہ آ گیا اور درخت کو کاٹنے کے لیے نکل پڑا، راستہ میں اسی شیطان سے دوبارہ اس کی ملاقات ہوئی، اس نے پوچھا، ارے میاں! کہاں کا ارادہ ہے؟ اس نے کہا، اسی درخت کو کاٹنے کے لیے جا رہا ہوں، شیطان نے کہا، تم اس کو نہیں کاٹ سکتے اور یہ کہہ کر شیطان نے اس آدمی کو زمین پر پٹخ دیا اور سینے پر چڑھ کر اس کا گلا دبانے لگا پھر شیطان نے اس آدمی سے کہا، جانتے ہو؟
میں شیطان ہوں؟ پہلی مرتبہ جب تم درخت کاٹنے کے لیے نکلے تھے، تو تمہارا مقصد اللہ کو خوش کرنا تھا، اس لیے تم نے مجھے پٹخ دیا تھا، اب تو تم اس وجہ سے درخت کاٹنے نکلے ہو کہ تمہیں دو دینار نہیں ملے، اب تمہاری نیت بدل گئی ہے، اس لیے آج تمہارا یہ حال ہوا۔ اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو بھی کام کرو اللہ تعالی کو راضی اور خوش کرنے کے لیے کرو، اس میں کسی طرح کی بھی کوئی لالچ نہ رکھو، اس سے اللہ تعالی ناراض ہوتے ہیں۔(یہ واقعہ تلبیس ابلیس سے لیاگیا ہے۔ )
اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ لائیک اور شیئر کریں۔

























