ایک بہت شفیق محبت کرنے والے شخص نے ایک بار مجھے کہا کہ انسان ساری زندگی سیٹ ہونے کی کوشش میں رہتا پہلے سوچتا ہے پڑھ لکھ لوں اچھی نوکری مل جائے پھر سیٹ ہو جاؤں گا نوکری کے بعد سوچتا ہے شادی ہو جائے بچے ہو جائیں ،سیٹ ہو جاؤںگا۔ شادی اور بچوں کے بعد اٌن کے مٌستقبل پوتے پوتیوں کی فکر میں سوچتا ہے کہ بس اب ریٹائرمنٹ کے بعد ہی سکون سے رہوں گا۔الغرض ساری زندگی سیٹ ہونے کی حسرت میں موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے
پھر جب قبر میں اٌتارا جا رہا ہوتا ہے اور اٌوپر کوئی سیانا ہدایات دے رہا ہوتا ہے۔کفن کا بند کھول دو‘منہ قبلہ رٌخ کردو‘ہاں اب سیٹ ہے‘ یہ وہ لمحہ ہے‘ یہاں آ کے “سیٹ” ہوتا ہےانسان۔ ہم لوگ ابھی زندہ ہیں کچھ تیاری کر لینی چاہئے اگے بہت لمبی زندگی ہے قبر ہے حشر ہے قیامت کی دن ہے کیا ہوگا ہمارے ساتھ ہمارے تو سب عمال کافروں جیسا ہے کیا منہ دکھائے گے اپنے نبی ﷺ کو کہ کیوں ہم آپؐ کے سنّت پہ عمل نہیں کرتے تھے کیوں؟

























