موٹی ویشنل سپیکرز کا اپنا حال کافی پتلا ہی ہوتا ہے، جیسے ’’کامیاب زندگی گزارنے کے گُر‘‘ کتاب لکھنے والے کی تین شادیاں ناکام ہو گئی تھیں ویسے ہی موٹی ویشنل سپیکر عام طور پر ناکام عملی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں، ایک دلچسپ کہانی حاضر خدمت ہے۔ ایک جاٹ گدھے پر ایک طرف خربوزے اور دوسری طرف پتھر لادے جا رہا تھا، راستے میں ایک شخص ملا اس نے حیران ہو کر کہا کہ اللہ کے بندے، گدھے پر دہرا وزن کیوں لادا ہوا ہے؟
بھولے جاٹ نے جواب دیا کہ توازن برابر کرنا تھا، اس شخص نے کہا میں تمہیں توازن برابر کر دیتا ہوں اور گدھے کا بوجھ بھی کم ہو جائے گا، جاٹ مان گیا تو اس شخص نے پتھر نیچے اتار کر آدھے خربوزے دوسری جانب رکھ دیے۔ وزن کم بھی ہو گیا اورتوازن بھی پورا ہو گیا۔ جاٹ یہ دیکھ کر بہت متاثر ہوا۔ اس شخص کی عقل مندی کی تعریف کرنے لگا۔ دونوں ایک ہی طرف جا رہے تھے باتیں ہونے لگیں۔ جاٹ اس سے پوچھتا ہے کہ تمہیں اس طرف کبھی نہیں دیکھا، کیا کرتے ہو اور کہاں جا رہے ہو؟ اس شخص نے بتایا کہ حالات بہت خراب ہو گئے ہیں، کاروبار میں نقصان ہو گیا ہے، بیٹے نالائق نکلے، داماد دغا باز ہے، بھائیوں نے بھی دھوکہ دیا، اب ایک دوست سے مدد مانگنے جا رہا ہوں۔ جاٹ نے یہ سنا تو گدھا روک کر دوبارہ پتھر اکٹھے کرنے لگا، پتھر اکٹھے کرکے سارے خربوزے پھر سے ایک طرف رکھ کر دوسری طرف پتھر رکھنے لگا، اس شخص نے حیران ہو کر پوچھا کہ یہ کیا کر رہے ہو؟ جاٹ بے رخی سے بولا، بھائی میں نے تو تمہیں عقل مند آدمی سمجھا تھا، تم تو اتنے بے وقوف ہو کہ سب سے دھوکہ کھاتے رہے ہو، مجھے ڈر ہے کہ تمہاری بات مان کر میں بھی اپنا کوئی نقصان نہ کر بیٹھوں۔ تو موٹی ویشنل سپیکر کا اپنا پس منظر ہوتا ہے آپ کا پس منظر کچھ اور ہے، وہ اپنے ماحول، اپنی سوسائٹی، اپنی تعلیم کے مطابق بات کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ اس کے بتائے ہوئے مشورے آپ کے ماحول یا سوسائٹی یا مزاج سے مطابقت رکھتے ہوں، اپنا رستہ خود منتخب کرنے کی کوشش کیجئے، یہ زیادہ بہتر ہو گا۔

























