جمعہ‬‮ ، 16 جنوری‬‮ 2026 

جمال خاشقجی کا قتل : اردو گان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(این این آئی)سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے صرف سلطنتِ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات کو پیچیدہ نہیں کیا ہے یہ قتل سعودی عرب کے سیاسی اور تجارتی مغربی اتحادی ممالک کے لیے بھی ایک درد سر بن گیا ہے۔ اس نے جواں سال سعودی ولی عہد کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جو آنے والی کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ کے اس اہم ترین ملک کی قیادت کرنے کے خواہشمند ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں یہ صورت حال انہتائی گھمبیر ہے۔ جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش اس امید سے بندھی ہے کہ بہت جلد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا وہیں کیپٹل ہل پر بہت سی اہم سیاسی شخصیات کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سعودی امور کے ماہرین اور بہت سے تھنک ٹینک بھی اس خیال کے حامی ہیں۔خاشقجی کے قتل کے محرکات اور ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا، ان تمام تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے لیکن اس بنیادی سوال کا جواب کہ اصل میں کس نے ان کے قتل کا حکم صادر کیا شاید کبھی نہ مل سکے۔تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سعودی ولی عہد سے بلی چوہے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ جتنا کچھ عام کر چکے ہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ کتنا کچھ جانتے ہیں اس بارے میں یقینی طور نہیں کہا جا سکتا۔وہ اس قضیے کو طول دیے جا رہے ہیں اور بظاہر تمام قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ اس ڈرامے کا سسپینس اور محمد بن سلمان سے توجہ ہٹنے نہیں دے رہے۔چالاکی سے دباؤ بڑھانے اور درست وقت پر اس دباؤ کو ہٹا لینے سے ہو سکتا ہے ترکی کو اپنی ڈولتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری اور مالی مدد ملے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ونڈر بوائے


یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…