جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

جمال خاشقجی کا قتل : اردو گان کا سعودیوں کے ساتھ چوہے بلی کا کھیل

datetime 31  اکتوبر‬‮  2018 |

لندن(این این آئی)سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل نے صرف سلطنتِ سعودی عرب اور ترکی کے تعلقات کو پیچیدہ نہیں کیا ہے یہ قتل سعودی عرب کے سیاسی اور تجارتی مغربی اتحادی ممالک کے لیے بھی ایک درد سر بن گیا ہے۔ اس نے جواں سال سعودی ولی عہد کا اصل چہرہ بھی بے نقاب کر دیا جو آنے والی کئی دہائیوں تک مشرق وسطیٰ کے اس اہم ترین ملک کی قیادت کرنے کے خواہشمند ہیں۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ میں یہ صورت حال انہتائی گھمبیر ہے۔ جہاں ٹرمپ انتظامیہ کی دلی خواہش اس امید سے بندھی ہے کہ بہت جلد یہ معاملہ ماضی کا حصہ بن جائے گا وہیں کیپٹل ہل پر بہت سی اہم سیاسی شخصیات کی طرف سے یہ زور دیا جا رہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے تعلقات کا از سر نو جائزہ لیا جانا چاہیے۔ سعودی امور کے ماہرین اور بہت سے تھنک ٹینک بھی اس خیال کے حامی ہیں۔خاشقجی کے قتل کے محرکات اور ان کی لاش کو کیسے ٹھکانے لگایا گیا، ان تمام تفصیلات کا سامنے آنا باقی ہے لیکن اس بنیادی سوال کا جواب کہ اصل میں کس نے ان کے قتل کا حکم صادر کیا شاید کبھی نہ مل سکے۔تمام شواہد اس طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ یہ حکم سعودی حکومت کی اعلیٰ ترین سطح یعنی سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی طرف سے جاری کیا گیا تھا۔ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سعودی ولی عہد سے بلی چوہے کا کھیل کھیل رہے ہیں۔ وہ جتنا کچھ عام کر چکے ہیں اس سے زیادہ جانتے ہیں۔ لیکن وہ کتنا کچھ جانتے ہیں اس بارے میں یقینی طور نہیں کہا جا سکتا۔وہ اس قضیے کو طول دیے جا رہے ہیں اور بظاہر تمام قانونی راستے اختیار کر رہے ہیں لیکن دراصل وہ اس ڈرامے کا سسپینس اور محمد بن سلمان سے توجہ ہٹنے نہیں دے رہے۔چالاکی سے دباؤ بڑھانے اور درست وقت پر اس دباؤ کو ہٹا لینے سے ہو سکتا ہے ترکی کو اپنی ڈولتی ہوئی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے سعودی عرب کی طرف سے سرمایہ کاری اور مالی مدد ملے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…