جمعرات‬‮ ، 09 اپریل‬‮ 2026 

چین اور امریکہ کی جنگ پاکستان میں جاری ، چین کامیاب ہو گیا تو مرکز بن جائے گا ورنہ امریکہ اس کے ساتھ کیا کرے گا؟ امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی رپور ٹ ،سنسنی خیز انکشافات

datetime 15  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد ( آئی این پی ) سابق نگران وزیر دفاع لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے کہا کہ امریکہ کوکہاجائے کہ اگر اسے سی پیک سے متعلق تحفظات ہیں تو اسے ہم سے اس پر بات چیت کرنی چاہیے ، اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکہ سی پیک کا دشمن ہے ، ہمیں امریکہ اور بھارت کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے بلکہ سی پیک پہ پختہ رہنا چاہیے ، دنیا کے باقی ممالک کو سی پیک میں سرمایہ کاری کی دعوت دینی چاہیے ۔ ہفتہ کو نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران

امریکی جریدے وال سٹریٹ جرنل کی رپورٹ پر پانے ردعمل میں لیفٹیننٹ جنرل (ر) نعیم خالد لودھی نے کہا کہ یہ بہت اچھا ہوا کہ یہ بات اب واضح ہو گئی ہے کہ یہ جو ڈومور کا مطالبہ ہے اس میں اندر کا مطالبہ یہ ہے کہ اس سے بات کریں ۔ امریکہ کو کہا جائے کہ اگر ان کو سی پیک سے متعلق تحفظات ہیں تو ان پر بات کی جائے ۔ اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ امریکہ سی پیک کا دشمن ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہماری لیڈر شپ کو یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا میں جو سارے معاملات چل رہے ہیں کوئی شک نہیں ہے کہ امریکہ سپر پاور ہے ۔ امریکہ کا جو مغربی یورپ حریف ہے وہ بھی ان سے نالاں ہے ۔ چین کے ساتھ ہمارے پرانے تعلقات ہیں ۔ ڈپلومیسی کی ایک حد ہے اپنی دلچسپی کو سامنے رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے آیا دو کشتیوں میں پاؤں رکھ بھی سکتا ہوں یا نہیں ۔ امریکا کا ہمیں مطمئن کرنے کا جو عجیب طریقہ ہے کہ جب امریکہ دباؤ ڈالتا ہے یا دولت کی چمک دکھاتا ہے تو ہم مان جاتے ہیں مگر اس دفعہ ان کو مایوسی ہو گی ۔ امریکہ نے دباؤ خود بھی ڈالا ہے بھارت کے ذریعے بھی ڈلوایا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بہت سارے مغربی ممالک چاہیں گے کہ وہ یہاں آئیں اور سرمایہ کاری کریں ۔ اگر امریکہ کی طاقت کو کم کرنا ہے ہمیں ان کے حلیفوں کو ان سے الگ کرنا پڑے گا ۔ ہمیں سی پیک پر پکا رہنا چاہیے ۔ ہمیں امریکہ اور انڈیا کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے ۔

چین کے ساتھ مل کر ایک حکمت عملی طے کرنی چاہیے جس میں دنیا کے باقی ممالک کو دعوت دیں کہ وہ سی پیک میں سرمایہ کاری کریں ۔ دریں اثناء امریکی جریدے’’وال سٹریٹ جرنل‘‘ نے اپنی ایک ویڈیو رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ دو بڑے ممالک کے درمیان جنگ ادھر پاکستان میں ہو رہی ہے، یہ لڑائی دراصل عالمی برتری کی ہے اور پاکستان کی اقتصادی خوشحالی اس کی ضامن ہے، اگر چین کامیاب ہو گیا تو وہ پوری دنیا کا کاروباری مرکز بن جائے گا، اگر امریکہ کامیاب ہو گیا تو

وہ چین کا عالمی اقتصادی مرکز بننے کا منصوبہ خراب کر دے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ دونوں صورتوں میں نتائج دہائیوں تک پوری دنیا میں محسوس کئے جائیں گے۔ امریکی جریدے میں رپورٹ کے ساتھ ایک کالم بھی شائع کیا گیا جس میں کہا گیا کہ امریکہ پاکستان میں چین کے اقتصادی راہداری منصوبے سے اختلافات رکھتا ہے، امریکہ پاک چین اقتصادی راہداری کو چین کی خط میں اقتصادی برتری کے تناظر میں دیکھا ہے اور اس منصوبے کو اس خطے میں اپنی موجودگی کیلئے خطرہ سمجھتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)


ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…