ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

پنجاب کے میٹرو بس منصوبے اور پشاور کے میٹرو میں فرق کیا ہے؟ پشاور کا 8 ارب کا منصوبہ 67 ارب تک کیسے پہنچ گیا؟ فواد چودھری بری طرح پھنس گئے لیکن پھر ایسا جواب دیدیا کہ کسی نے سوچا تک نہ ہوگا

datetime 14  ستمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) معروف صحافی شاہ زیب خانزادہ نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں وزیر اطلاعات فواد چودھری سے سوال پوچھتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف کی حکومت یہ دعویٰ کر رہی ہے کہ پشاور میٹرو منصوبے میں سبسڈی نہیں ہوگی، تحریک انصاف نے آج تک پشاور میٹرو کے حوالے سے جو دعوے کیے ہیں ان میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا، پہلے کہا کرتے تھے کہ پشاور میٹرو بس منصوبہ بننا ہی نہیں چاہیے،

معروف صحافی نے مزید کہا کہ عمران خان نے کہا تھا کہ اگر پراجیکٹ بنایا تو میں خود جاکر احتجاج کروں گا لیکن پھر اس پراجیکٹ پر کام شروع ہو گیا، اب یہ کہا گیا کہ ہم صوبے میں بیرونی امداد سے کوئی پراجیکٹ نہیں بنائیں گے ایسا پنجاب میں بنتا ہے لیکن پھر ایشین ڈویلپمنٹ بینک سے پیسے لے کر بنایا۔ اس پراجیکٹ کے لیے 8 ارب کی بات کرتے تھے لیکن پھر اس پراجیکٹ کی لاگت 49 ارب تک لے آئے، اب یہ پراجیکٹ 67 ارب تک پہنچ گیا ہے، معروف صحافی نے کہا کہ پشاور میٹرو کے حوالے سے آج تک کوئی دعویٰ پورا نہیں ہوا، آج پھر آپ سبسڈی کی بات کر رہے ہیں تو کیا آپ مکمل بریفنگ لے کر یہ بات کر رہے ہیں، جس کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ یہ ایشین بینک کی فزیبلٹی ہے، ان کا پراجیکٹ ہے۔ فواد چودھری نے کہا کہ ایشین ڈویلپمنٹ بینک کہتا ہے کہ ہمیں اس میں سبسڈی کی ضرورت نہیں پڑے گی، یہاں پر کرایہ 20 روپے ہے جبکہ وہاں پر جو کرایہ ہے وہ 55 روپے ہے۔ فواد چودھری نے مزید کہا کہ وہاں پر حکومت نے خود بسیں خریدی ہیں جبکہ یہاں پر بسیں کرائے پر چل رہی ہیں۔ پشاور میں میٹرو پورے علاقے کوکور کرتی ہے جبکہ یہاں چند علاقوں کوکور کرتی ہے، اس موقع پر پروگرام کے میزبان شاہ زیب خانزادہ نے کہا کہ جب 49 ارب تک رقم پہنچی تو پرویز خٹک یہ کہہ کر دفاع کرتے رہے کہ بسیں اپنی ہوں گی اور سٹاپ زیادہ ہوں گے لیکن بروقت نہ بنانے کی وجہ سے لاگت 67 ارب تک پہنچ گئی۔ اس کے جواب میں وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا کہ میں تو دستاویزی ثبوتوں پربات کر رہا ہوں اگر دستاویزی ثبوت غلط ثابت ہوں گے اور سبسڈی ہوگی توپھر ہم مل کر اس پر تنقید کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…