جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

بیوی کی ذہانت

datetime 19  جون‬‮  2020 |

امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے مبارک دور کی بات ہے کہ ایک شخص اپنی بیوی سے بڑا تنگ تھا اور اسے ہر حالت میں طلاق دینا چاہتا تھا‘ ایک دن اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سیڑھیاں چڑھ رہی ہے‘ اس نے بیوی کو مخاطب کیا اور کہنے لگا: سنو ! اگر تو اوپر چڑھی تو تجھے طلاق‘ نیچے اتری تو طلاق اور اپنی جگہ کھڑی رہی تو پھر بھی طلاق۔ اس عورت

نے اپنے خاوند کی طرف دیکھا‘ لمحہ بھر کیلئے رکی‘ ذرا سوچا اور پھر اس کے خاوند نے دیکھا کہ اس نے سیڑھی سے چھلانگ لگا دی اور خاوند کی حسرتوں پر پانی پھر گیا‘ اپنی بیوی سے مخاطب ہوا‘ میر ے ماں باپ تجھ پر قربان ! تو کتنی بڑی فقیہہ ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ تعالیٰ وفات پا جائیں تو ممکن ہے اہل مدینہ فتویٰ کیلئے تیرے ہی پاس آئیں۔

شراب نہ پیؤ ں گا تو کیا ہو گا؟

 

ایک مرتبہ جگر مراد آبادی بیٹھے ہوئے تھے کہ دل میں خیال آیا کہ شراب نہ پیؤں گا تو کیا ہو گا؟ اگر میں اللہ کو ناراض کر بیٹھا اور نفس کو خوش کر لیا تو کیا فائدہ ہو گا‘ چنانچہ ایسے ہی بیٹھے بیٹھے پینے سے توبہ کر لی‘ چونکہ بہت عرصہ سے پی رہا تھا اس لئے بیمار ہو گیا۔ ہسپتال گئے‘ ڈاکٹروں نے کہا کہ ایک دم چھوڑنا تو ٹھیک نہیں‘ تھوڑی سی پی لیں وگرنہ موت آ جائے گی‘ پوچھنے لگے تھوڑی سی پی لوں تو زندگی کتنی لمبی ہو جائے گی؟انہوں نے کہا کہ دس پندرہ

سال‘ کہنے لگے دس پندرہ سال کے بعد بھی تو مرنا ہے بہتر ہے کہ ابھی مر جاؤں تاکہ مجھے توبہ کا ثواب مل جائے‘ چنانچہ پینے سے انکار کر دیا‘ اسی دوران ایک مرتبہ عبدالرب نشتر سے ملنے گئے‘ ماشاء اللہ وہ اس وقت وزیر تھے ان کا تو بڑا پروٹوکول تھا یہ جب ان سے ملنے گئے تو چوکیدار نے سمجھا کہ کوئی مانگنے والا فریاد لے کر آیا ہو گا‘ چنانچہ اس نے کہا جاؤ میاں! وہ مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اچھا اپنے پاس سے کاغذ کا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نکالا اور اس پر ایک مصرعہ لکھ کر عبدالرب نشتر کو بھیجا کیونکہ وہ بھی صاحب ذوق تھے عجیب مصرعہ لکھا۔نشتر کو ملنے آیا ہوں میرا جگر تو دیکھ۔۔۔جب کاغذ کا پرزہ وہاں گیا تو عبدالرب نشتر اس پرزہ کو لے کر باہر نکل آئے‘ کہاں جناب!

آپ تشریف لائے ہیں اور اندر لے گئے‘ بٹھایا اور حال پوچھا‘ چنانچہ بتایا کہ زندگی کا رخ بدل لیا ہے‘ تھوڑے عرصے کے بعد چہرے پر سنت سجا لی‘ لوگ ان کو دیکھنے کیلئے آتے تو انہوں نے اس حالت پر بھی شعر لکھ دیا‘ اب چونکہ طبیعت سے تکلفات ختم ہو گئے تھے‘ سادگی تھی اس لئے سیدھی سیدھی بات لکھ دی فرمایا:چلو دیکھ آئیں تماشا جگر کاسنا ہے وہ کافر مسلمان ہوا ہےشیخ کامل کی صحبت سے جگر پر پھر ایسی واردات ہوتی تھیں کہ عارفانہ اشعار کہنا شروع کر دیئے۔ چنانچہ ایک وہ وقت بھی آیا کہ اللہ رب العزت نے ان کو باطنی بصیرت عطا فرما دی‘ ایک ایسا شعر کہا جو لاکھ روپے سے بھی زیادہ قیمتی ہے اس ساری تفصیل کے سنانے کا اصل مقصد بھی یہی شعر سنانا ہے :میرا کمال عشق میں اتنا ہے بس جگر وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…