جمعرات‬‮ ، 28 مئی‬‮‬‮ 2026 

کمبل سے پاﺅں باہرنکال کر سونے کے حیرت انگیز اثرات، ماہرین کی نئی تحقیق

datetime 18  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )کچھ افراد کی عادت ہوتی ہے کہ وہ دوران نیند اپنا ایک پاوں بستر سے باہر نکالے رکھتے ہیں جبکہ کچھ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو کہ دونوں پاوں ہی لحاف یا کمبل سے باہر رکھتے ہیں۔ یہ افراد ایسا کیوں کرتے ہیں، اس بارے میں تو خود ان کو بھی نہیں معلوم ہوتا ہے، البتہ وہ یہ ضرور جانتے ہیں کہ اس طریقے سے وہ زیادہ اچھی نیند سوتے ہیں اور اگر کوئی شخص ان کے پاوں پر کمبل یا لحاف ڈالے دے

تو ان کی آنکھ کھل جاتی ہے۔ سائنس نے اس کی توجیہہ ڈھونڈ نکالی ہے جو کہ خاصی دلچسپ ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ دراصل ایک پاوں بستر سے باہر رکھنے کی صورت میں جلد کے نیچے موجود خاص طرح کی خون کی نالیاں متحرک ہوجاتی ہیں۔ یہ خون کی نالیاں جلد کی انتہائی اوپری سطح پر ہی ہوتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ یہ کمبل کے اندر موجود پاوں اور کمبل سے باہر موجود پاوں کے درجہ حرارت کو آسانی سے محسوس بھی کرسکتی ہیں۔ اسی درجہ حرارت کو محسوس کرتے ہوئے یہ متحرک ہوتی ہیں۔ جس وقت پاوں سے کمرے کی ٹھنڈی ہوا ٹکراتی ہے تو یہ نالیاں جسم کے درجہ حرارت کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ اچھی اور پرسکون نیند سونے کیلئے جسم کا درجہ حرارت کم ہونا بے حد ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جوں ہی پاوں کے ذریعے جسم کو موصول ہونے والے سگنلز کی بدولت جسم کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے، ویسے ہی نیند آنا شروع ہوجاتی ہے۔اسی مرحلے کو ماہرین یوں بھی بیان کرتے ہیں کہ جس وقت دماغ تھک جاتا ہے اور آرام کا طلبگار ہوتا ہے تو یہ جسمانی افعال کو سست کرنے لگتا ہے، ساتھ ہی جسم کا درجہ حرارت بھی گرنے لگتا ہے اور نیند کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ اگر آپ بھی نیند کی کمی کا شکار ہیں تو رات سونے سے قبل بستر سے اپنا ایک پاوں باہر رکھ کے سونے کی کوشش کیجئے گا، غالب امکان یہی ہے کہ آپ اچھی اور پرسکون نیند سوجائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…