اگرچہ میڈیکل سائنس اورزندگی کا اعلیٰ معیار ہماری زندگیوں کا دورانیہ بڑھا رہا ہے لیکن یوں لگتا ہے جیسے اکثر انسان ویسی زندگی بسر نہیں کر رہے جیسی زندگی انہیں حقیقت میں بسر کرنا چاہیے تھی۔ اکثر ایسا ہو تا ہے کہ ’’مصروفیت کے جال ‘‘ میں الجھ جانے کانتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم ایک کے بعد دوسرا کام نمٹانے کے لیے ہر وقت تیزی سے حرکت میں رہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افسوس تو یہ ہے کہ جب ہماری زندگی ختم ہونے والی ہوتی ہے
تب ہمیںیہ تلخ حقیت معلوم ہوتی ہے کہ اتنی محنت مشقت اور بھاگ دوڑ کے باوجود ہم جس جگہ سے چلے تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں۔ آپ اپنی اور اپنے گردو پیش میں موجود دوسرے افراد کی زندگیوں پر نظر ڈالیے‘ آپ دیکھیں گے کہ آپ سمیت سب لوگ ہر وقت مصروف تو ہیں مگر اس مصروفیت کا حاصل کچھ نہیں ۔ مغرب کے ماہرین نفسیات اور انسانی شخصیت کو بہتر سے بہتر بنانے کے فن کے ماہروں نے انسانی تاریخ کے عدیم سائنسی ‘معاشی اور معاشرتی ارتقاء کے حامل زمانہ جدید کی ناگزیر الجھنوں میں پھنسے لوگوں کی زندگیوں میں سلجھاؤ لانے اور اس جدید عہد کی پیدا کردہ تمام تر پیچیدگیوں اور مشکلات کا مقابلہ کرکے خوشی اور کامیابی کا حصول ممکن بنانے کے لیے بہت سے طریقے ایجاد کیے ہیں۔ اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ فلاں دن مرنے والے ہیں تو آپ کی زندگی اپنی موجودہ زندگی سے کس طرح مختلف ہوگی؟ جدید نفسیات دانوں اور انسانی زندگی بہتر سے بہتر بنانے پر زیادہ تر انسان اپنی زندگی کے بارے میں کامل آزادی سے سوچتے اور بات کرتے ہیں۔ ان میں زیادہ جرات پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ مصلحتاً سچ نہ بولنے یا پورا سچ نہ بولنے کے بجائے خالص سچ بولنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ وہ اپنے اور دوسروں کے بارے میں ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں جن کا اظہار انہوں نے کسی نہ کسی وجہ سے پہلے کبھی نہیں کیا تھا۔ اپنی موت کے بار ے میں سوچنے کا مثبت اثر اس حقیقت پر افسردہ ہونے اور رونے کی کوئی ضرورت نہیں کہ سب نے ایک نہ ایک دن مر جانا ہے۔ اگرچہ موت ایسی چیز ہے جس سے پوری دنیا کے انسان خوف کھاتے ہیں۔
تاہم ترقی یافتہ ملکوں کے نفسیات دانوں کا کہنا ہے کہ اپنی موت کے بارے میں سوچنے سے ہم اپنی زندگی بھر پور انداز سے بسر کرنے کیلئے متحرک اور باعمل بھی ہو سکتے ہیں۔مغربی ماہرین نفسیات نے ایسے لوگوں کے سروے کیے ہیں‘ جنہیں علم تھا کہ وہ مر جانے والے ہیں مثلاً سرطان کے آخری مرحلے میں پہنچے ہوئے مریض وغیرہ۔ ایسے لوگوں میں سے قریباًتمام لوگوں نے کہا انہیں یہ حسرت نہیں کہ ’’کاش میں نے زیادہ پیسہ کمایا ہوتا‘‘یا کاش میں نے زیادہ کام کیے ہوتے۔ اس کے بجائے اپنی موت سے آگاہ لوگوں نے اس حسرت کا اظہار کیا کہ کاش انہوں نے ’’سچی کامیابی‘‘ یا’’ سچی خوشی‘‘ حاصل کی ہوتی۔
اس مضمون کے لیے ایک کتابThe Top 5 Regerts of the Dyingسے استعفادہ کیا گیاہے۔ یہ کتاب برونی وئیر نے لکھی تھی۔ برونی وئیرآسڑیلیا میں رہتی ہیں اور پیلی ایٹو کیئر نرس کی حیثیت سے خدمات انجام دیتی ہیں۔ پیلی ایٹو کیئر نرس سے مراد ایسی نرس ہے جو قابل علاج یا لاعلاج بیماریوں میں مبتلا افراد کی بیماری کے نہایت تکلیف دہ مرحلے میں ان کی تکلیف کم کرنے اور ان کی بچی کھچی زندگی کو زیادہ سے زیادہ آسان بنانے کی کوشش کرتی ہے۔برونی وئیر کی ایک انوکھی عادت تھی۔ انہیں جن قریب المرگ مریضوں کی خدمت پر مامور کیا جاتا وہ ان سے پوچھا کرتی تھیں کہ ان کے دل میں کیا کیا حسرتیں موجود ہیں۔ وہ اپنی حاصل کردہ معلومات اپنے بلاگ میں لکھا کرتی تھی۔
آپ جانتے ہوں گے کہ بلاگ پرانے زمانے کی ڈائری کی ڈیجیٹل صورت ہے۔ بلاگ نویسی کے لیے دنیا کی بعض بڑی کمپنیوں نے یہ سہولت انٹرنیٹ پر مفت فراہم کر رکھی ہے۔ اپنے خیالات وواقعات زندگی لکھنے کے عادی افراد انٹرنیت پر اس مفت دستیاب سہولت سے استعفادہ کرتے ہیں۔ مغربی دنیا کے بعض بلاگ نویسوں نے ایسے بلاگ لکھے جو انٹرنیٹ پر مطالعے کے عادی لوگوں میں بہت مقبول ہوئے اور انہیں کتاب کی صورت میں بھی شائع کیا گیا تا کہ کتاب پڑھنے کے عادی لوگ بھی ان کے خیالات سے استفادہ کرسکیں۔ اس مضمون کے لیے برونی وئیرکی کتاب سے پانچ ایسی حسرتیں چنی گئی ہیں جن کا اظہار قریب المرگ مریضوں میں سے زیادہ تر مریضوں نے کیا تھا۔ وہ پانچ حسرتیں یہ ہیں:
1:کاش میں دوسروں کی توقعات کے مطابق نہ جیا ہوتا!
قریب المرگ لوگوں نے سب سے زیادہ جس حسرت کا اظہار کیا وہ یہ تھی کاش میں اپنی زندگی دوسرے لوگوں کی توقعات کے مطابق بسر کرنے کے بجائے ایسی زندگی بسر کرتا جو میری اپنی امنگوں ‘خواہشوں اور آدرشوں کے مطابق ہوتی۔آپ کا اپنا تجربہ بھی یہی ہو گا کہ ہم اکثر اوقات اپنی زندگی کے اہم فیصلے بھی اس بنیاد پر کرتے ہیں کہ دوسرے لوگ کیا چاہتے ہیں۔ اکثر لوگ کسی خاص یونیورسٹی سے اس لیے تعلیم حاصل کرتے ہیں کہ ان کے باپ کی خواہش تھی ان کا بیٹا یا بیٹی اس یونیورسٹی سے ڈگری حاصل کرے ۔ بعض لوگوں کو کوئی خاص پیشہ اس کے لیے اختیار کرنا پڑتا ہے کہ انہیں اپنی ذات کے تقاضے نظر انداز کرکے اپنے گھرانے کی ضرورتیں پوری کرنے کے لیے زیادہ پیسہ کمانا ہوتا ہے۔
اسی طرح بعض لوگ اس وجہ سے اپنے خوابوں اور آرزوؤں کی تکمیل کی کوشش نہیں کرتے کہ کسی نے ان کے خوابوں اور آرزوؤں کو احمقانہ قرار دے دیا تھا۔ یہاں سوال ابھرتا ہے کہ اگر آپ نے اپنی زندگی دوسروں کی توقعات کے مطابق بسر کرنے کے بجائے اپنی مرضی سے اپنے خیالات کے مطابق بسرکی ہوتی تو کیاہوتا؟ایسی صورت میں آپ کس طرح کا لباس پہنتے ؟ آپ کس جگہ کام کرتے؟ آپ کس جگہ رہتے؟ آپ اپنا وقت کس طرح کے لوگوں کے ساتھ گزارتے ؟ اگر آپ اس بات سے خوف زدہ نہ ہوتے کہ دوسرے لوگ کیا سوچیں گے تو آپ کیا کرتے؟ یہ حقیقت ہے کہ ہم سب انسانوں کو بہت سی معاشرتی حدود قیود کے اندر رہنا پڑتا ہے اور ہم پر بہت سی پابندیاں عائد ہوتی ہیں۔ لیکن ہم جس قدر سچی زندگی بسر کریں گے اتنا ہی زیادہ مطمئن خوش اور مسرور شادماں ہوں گے۔
2:کاش میں نے زیادہ محنت نہیں کی ہوتی!
برونی وئیر لکھتی ہیں انہوں نے جتنے بھی مرد مریضوں سے یہ سوال پوچھا کہ انہوں نے جتنا کام کیا‘ جتنی محنت کی وہ اس سے مطمئن ہیں تو تمام مرد مریضوں نے جواب دیاکہ کاش ہم نے زیادہ محنت نہیں کی ہوتی! دنیا کے ہر ملک میں خواہ وہ ترقی یافتہ ہو یا غیر ترقی یافتہ پذیر ‘ملازمت پیشہ افراد کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ملازمت پیشہ لوگ اکثر سوچتے ہیں کہ انہیں مہینے میں زیادہ سے زیادہ کام کرنا چاہیے ہر روز زیادہ سے زیادہ محنت کرنی چاہیے اور چھٹی بالکل نہیں کرنی چاہیے ۔وہ اتنی محنت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ انہیں ترقی ملے یا ان کی تنخواہ میں اضافہ کر دیا جائے۔
یہاں سوال یہ ابھرتا ہے کیا ان خواہشوں کی تکمیل کے لیے اتنی زیادہ محنت کرنا درست ہے؟ اگر آپ اپنی ذات کے ساتھ حقیقت میں دیانت داری برتنا چاہتے ہیں تو ان دو صورت حال میں سے کون سی بہتر ہو گی :(1) پیسہ کمانے کے لیے محنت مشقت کرنا‘(2)اپنے موجودہ طرز زندگی سے مختلف طرز زندگی اپنانا ۔ اگر آپ غور کریں تو زندگی بسر کرنے کے لیے اپنے انداز میں شعوری طور سے چند تبدیلیاں لا کر آپ پیسہ بھی کما سکتے ہیں اور دل کا اطمینان بھی حاصل کر سکتے ہیں۔
3:کاش اپنے احساسات کے اظہار کی جرات مجھ میں ہوتی!
آپ کو اپنی زندگی میں امن و سکون برقرار رکھنے کے لیے اپنے دل جذبات اور احساسات کے اظہار سے خود کو اکثر اوقات روکنا پڑتا ہے نا ؟صورت حال کچھ یوں ہے کہ ہمیں بچپن سے اس طرح کی نصیحتیں کی جاتی ہیں۔’’کسی بھی چیز کے بارے میں اتنے زیادہ جذباتی مت ہو‘‘ یا’’اپنے جذبات کو اپنے آپ پر حاوی نہیں ہونے دو۔‘‘یہ نصیحتیں اپنی جگہ ہمارے جذبات و احساسات ہماری ذاتی سچائیاں ہوتے ہیں۔
آپ کسی معاملے یا کسی شخص کے بارے میں جو کچھ محسوس کرتے ہیں۔ کوئی دوسرا شخص ان کا انکار نہیں کر سکتا۔ دوسرے لوگ ہماری باتوں یا کاموں پر جو رد عمل کرتے ہیں۔ جہاں اختیار نہیں ہوتا۔ وہ اپنی مرضی سے رد عمل کرتے ہیں۔ جہاں تک ہمارا تعلق ہے تو ہم اپنی مرضی سے اپنے رد عمل کا اظہار کر سکتے ہیں۔ یہاں ایک دلچسپ مگر حقیقت پر مبنی سوال ابھرتا ہے کہ اپنے رد عمل کا اظہار اپنی مرضی سے کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ جس کمپنی میں ملازمت کرتے ہیں وہاں اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں پر بورڈ میٹنگ کے دوران رونا شروع کر دیں؟نہیں ایسا نہیں ہو سکتا۔ اپنا ردعمل اپنے اختیار میں ہونے کا مطلب یہ تھوڑی ہے کہ آپ اس جگہ رونا شروع کر دیں جہاں سنجیدگی سے کام لینا ضروری ہے ۔
آپ کے جذبات و احساسات مثبت ہوں یا منفی وہ آپ کی زندگی اور طرز زندگی پر مثبت اثر ڈال سکتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ آپ اپنے جذبات و احساسات کو انتشار کا شکار نہ ہونے دیں اور کسی خاص قالب میں ڈھال لیں یعنی کسی کے ساتھ گفتگو کر رہے ہوں تو کارآمد اور نتیجہ خیز گفتگو کیجئے۔ اپنی طرز زندگی اور اپنے احساسات میں تبدیلی لے آئیے آپ کے منفی جذبات و احساسات بھی آپ کے لیے کار آمد بن جائیں گے۔
4:کاش میں اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ رابطے میں رہا ہوتا!
جیسا کہ دوسری سرخی کے تحت لکھا گیا ہے اگر آپ دن رات کام میں مصروف رہتے ہیں تو اس مصروفیت کی وجہ سے یہ امر یقینی ہے کہ آپ اپنے گھرانے کے افراد اور دوسرے قریبی رشتہ داروں کو نظر انداز کر رہے ہوں گے۔ یہ ذاتی تعلقات ہی تو ہیں جو ہماری زندگیوں کو مفہوم و معانی دیتے ہیں۔ ملازمت میں ترقی یا تنخواہ میں اضافہ ہماری زندگی کی معنویت میں کوئی اضافہ نہیں کرتے۔
کام میں غیر ضروری مصروفیت کے علاوہ ہر وقت ٹیلی ویژن دیکھتے رہنا یا ویڈیو گیمز کھیلتے رہنا بھی آپ کو اپنے گھرانے کے افراد اور رشتہ داروں سے دور کر سکتا ہے۔ یہ جدید زمانے کی طرز حیات کے وہ معمولات و مشاغل ہیں جو راحت آفریں نہیں بلکہ غارت گر سکون و راحت ہیں۔ سوچئے کہ آپ آج ہی اپنے کس رشتے دار یا دوست سے رابطہ کر سکتے ہیں؟ کس دوست یا رشتے دار کو فوری طور سے فون کال یا ٹیکسٹ میسج کر کے یا خط لکھ کر اسے یہ بتا سکتے ہیں آپ اسے یاد کر رہے ہیں اور اس کے بار ے میں سوچ رہے ہیں؟
5: کاش میں نے اپنے آپ کو زیادہ خوش ہونے دیا ہوتا!
اس چھوٹے سے جملے میں اس حسرت میں بڑی دانش نہاں ہے۔ اس جملے سے عیاں ہے کہ خوشی اس چیز کا نام نہیں کہ آپ کے پاس مہنگی کار ہو‘ اچھی ملازمت ہو یا آپ کی شریک حیات بہت خوب صورت ہو۔ درحقیقت خوشی ان سب سے ماورا ہے۔ فلسفی اور نفسیات کے ماہر کہتے ہیں کہ خوشی اصل میں آپ کا فیصلہ ہے۔ خوشی اس چیز کا نام ہے کہ آپ کسی کام میں تاخیر سے لطف اندوز ہوں۔ خوشی اس چیز کا نام ہے۔ آپ کسی شخص کو اس باعث برا بھلا نہ کہیے کہ وہ آپ کی سوچ سے مطابقت نہیں رکھتا بلکہ خوشی اس چیز کا نام ہے کہ جو شخص جیسا بھی ہے اس سے محبت کیجئے۔ہمارے لیے ضروری نہیں کہ ہم بھی وہی غلطیاں کریں جو ہم سے پہلے گزر جانے والے لوگ کر چکے ہیں۔
نہ صرف ہماری خوشی اور کامیابی بلکہ ہماری پوری زندگی کا دارومدار ہمارے فیصلوں پر ہوتا ہے۔ یہ فیصلہ خود ہمی نے کرنا ہوتا ہے کہ ہم جس طرح حقیقت میں جینا چاہتے ہیں اس طرح جئیں گے یا زندگی کے آخری دن اس بات پر پچھتاوے کے شکار ہو کر گزار دیں گے کہ ہم نے صحیح وقت پر صحیح فیصلے کیوں نہیں کیے۔ ہمیں یقین ہے کہ افسردہ کر دینے والی یہ بہت سنجیدہ سچائیاں آپ کو ایسے فیصلے کرنے میں مدد دیں گی جن پر آپ کو پچھتانا نہیں پڑے گا۔ زندگی کے بڑے دکھوں اور صدمات کی ایک معنویت یہ بھی ہے کہ یہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ خوشی کو التوا ء میں بالکل بھی نہیں ڈالنا ہے بلکہ ایسے فیصلے کرنا ہیں جو آج ہی ہمیں سچی خوشی اور کامیابی کی جانب لے جائیں۔

























