اتوار‬‮ ، 04 اکتوبر‬‮ 2026 

ہمارے امیدوار کو تھپڑ مارے گئے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں،نوازشریف کے الزام پر مبینہ تھپڑ کھانے والا امیدواربھی سامنے آگیا،ایسی بات کہہ دی کہ کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا

datetime 1  جولائی  2018 |

ملتان(نیوز ڈیسک) انتخابات میں حصہ لینے والے (ن) لیگی امیدوار رانا اقبال سراج نے تشدد کا نشانہ بنانے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں ملنے کے معاملے کی تردید کردی۔(ن) لیگی امیدوار رانا اقبال سراج نے ایک ویڈیو پیغام کے ذریعے بتایا کہ ان کے گودام پر پیش آئے جس واقعے کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے گودام پر محکمہ زراعت کے حکام آئے اور اداروں کے بارے میں ان کی جو غلط فہمی تھی وہ دور ہوچکی ہے

اور ان کے معاملے سے کسی ادارے کا کوئی تعلق نہیں اور وہ اپنے گزشتہ بیان کی تردید کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ ملتان سے انتخابات میں حصہ لینے والے (ن) لیگی امیدوار رانا اقبال سراج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابی دوڑ سے نکلنے کیلئے ان پر دباؤ ڈالا گیا اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا اور کاروبار تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں تاہم میڈیا پر خبر آنے کے بعد انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ہی اس کی تردید کی۔ رانا اقبال سراج کی ویڈیو پر (ن) لیگ کے قائد نواز شریف نے اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملتان میں ہمارے امیدوار رانا اقبال سراج کو تھپڑ مارے گئے اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں، اگر انتخابات میں دھاندلی ہوئی تو طوفان اٹھے گا جسے سنبھالنا مشکل ہوگا۔دریں اثناء الیکشن کمیشن نے ملتان میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا اقبال سراج پر تشدد کا نوٹس لے لیا۔ الیکشن کمیشن رانا اقبال سراج پر مبینہ تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب سے جواب طلب کرلیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کو سیکیورٹی فراہم کرنا صوبائی حکومت کی ذمہ داری ہے۔الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کو یکساں سیکیورٹی کی فراہمی کیلئے احکامات جاری کر چکے تھے۔یاد رہے کہ (ن) لیگی امیدوار رانا اقبال سراج کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی جس میں ان کا دعویٰ تھا کہ انتخابی دوڑ سے نکلنے کے لیے ان پر دباؤ ڈالا گیا اور انہیں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا اور کاروبار تباہ کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئیں تاہم میڈیا پر خبر آنے کے بعد انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام کے ذریعے ہی اس تمام معاملے کی تردید کی اسے غلط فہمی کی بنیاد پر ہونا قرار دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…