ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سندھ ، امتحانی مراکز پر بوٹی مافیا کا راج، میٹرک کے امتحان میں نقل کرنے کا نیا ریکارڈ قائم ہو گیا، چھاپہ مار ٹیمیں غائب

datetime 27  مارچ‬‮  2018 |

حیدرآباد/سکھر(این این آئی) اندرون سندھ میٹرک کے امتحانات میں نقل زروں پر پہنچ گئی ٗ انتظامیہ نے کارروائی کرتے ہوئے 15 طلبہ کو گرفتار کرلیا ہے۔لاڑکانہ اور سکھر تعلیمی بورڈز کے زیراہتمام نویں اور دسویں جماعت کے سالانہ امتحانات شروع ہوگئے ہیں ٗ حیدرآباد، بدین، مٹیاری، ٹنڈوالہیار اور قاضی احمد میں نویں جماعت کے انگریزی کے پرچے کے دوران 15 طالبعلم نقل کرتے

ہوئے پکڑے گئے۔سکھر بورڈ کے زیراہتمام 4 اضلاع میں ایک لاکھ 2 ہزار سے زائد طلبہ طالبات کیلیے 214 امتحانی مراکز قائم کیے گئے۔ نقل کی روک تھام کیلیے 27 چھاپہ مار ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں اور امتحانی مراکز کے باہر دفعہ 144 نافذ ہے تاہم تمام اقدامات بظاہر ناکام ثابت ہوئے۔ متعدد امتحانی مراکز میں نویں جماعت کے انگلش ون کے پرچے میں نقل زوروں پر رہی۔ طلبہ گائیڈز اور حل شدہ پرچوں کی مدد سے جوابات لکھتے رہے لیکن چھاپہ مار ٹیمیں غائب رہیں۔ کمرہ امتحانات میں ڈیوٹی پر تعینات اساتذہ بھی نقل روکنے میں ناکام رہے اور امتحانی مراکز کے باہر بھی غیر متعلقہ افراد کا رش رہا۔حیدرآباد تعلیمی بورڈ کے تحت بھی نویں اور دسویں جماعتوں کے سالانہ امتحانات کا آغاز ہوگیا ہے۔ حیدرآباد میں بھی امتحانی مراکز میں پرچے دینے کیلئے آنے والے طالبعلموں سے نقل کا مواد برآمد ہوا ہے۔ میرپور ماتھیلو کے امتحانی مرکز ہائی اسکول میں واٹس اپ کے ذریعے انگلش ون کا پرچہ وقت سے پہلے ہی آئوٹ ہوگیا۔ دفعہ 144 کے نفاذ کے باوجود امتحانی مرکز کے باہر غیر متعلقہ افراد موجود رہے۔ادھر بدین میں بھی انگریزی ون کا پرچہ آئوٹ ہوگیا تاہم ناظم امتحانات مسرور زئی نے آئوٹ ہونے والا پرچہ جعلی قرار دے دیا۔ ناظم امتحانات نے کہا کہ امتحانی پرچے سینٹرز کوڈ کے ساتھ شائع کئے گئے ہیں۔ لاڑکانہ بورڈ کے زیراہتمام بعض امتحانی مراکز میں سندھی

ون کے پرچہ کے اجرا میں تاخیر ہوئی۔ تو موبائل فون پر سوالیہ پرچہ پہنچنے پر طلبہ و طالبات نے پرچہ حال کرنا شروع کردیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…