اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)گزشتہ رات پی ایس ایل تھرڈ ایڈیشن میں لاہور قلندر اور اسلام آباد یونائیٹڈ کے درمیان ہونے والے انتہائی سنسنی خیز مقابلے میں اسلام آباد یونائیٹڈ نے فتح کیلئے بیتاب اور ترستی ہوئی لاہور قلندر کی ٹیم کے منہ سے فتح کا پیالہ کھینچ لیا ہے۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کی فتح میں پاکستان کے فاسٹ بائولر محمد سمیع کا اہم کردار تھا۔ محمد سمیع نے آخری اوور میں لاہور قلندر
کی یقینی فتح کو اسلام آباد یونائٹڈ کی جھولی میں ڈال کر سب کو حیران کر دیا۔ لاہور قلندر کے کپتان نیوزی لینڈ کے میکلم کی نہایت شاندار اور ذمہ دارارانہ اننگز بھی ٹیم کو فتح نہیں دلو اسکی۔ اسلام آباد یونائیٹڈ کے محمد سمیع نے انتہائی تیز اور اپنے سابقہ ردھم میں بائولنگ کرا کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ محمد سمیع کی بائولنگ رفتار 145سے 147کلومیٹر فی گھنٹہ کے نشان کو چھوتی رہی ۔ اس دورا ن محمد سمیع نے اہم موقع پر اپنی روایتی شاٹ لینتھ بال سے وکٹ لے کر میچ کا پانسہ ہی پلٹ دیا تھا۔ میچ کے بعد تقریب تقسیم انعامات میں رمیز راجہ کے سوال کا جواب دیتے ہوئے محمد سمیع کا کہنا تھا کہ میں نے بائولنگ کی پلاننگ کر رکھی تھی اور دو گیندیں فل لینتھ کرانے کے بعد تیسری گیند شارٹ لینتھ پر کرائی۔ اپنے پلان پر مکمل عمل کیا جس پر اللہ تعالیٰ نے کامیابی عطا کی۔ اس موقع پر محمد سمیع کی بائولنگ کی تعریف کرتے ہوئے رمیز راجہ کا کہنا تھا کہ آپ کی بائولنگ دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہی پرانا محمد سمیع واپس آگیا ہے۔ واضح رہے کہ لاہورقلندر کو اسلام آباد یونائٹیڈ کے ہاتھوں گزشتہ رات کے میچ میں مسلسل چوتھی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔لاہور قلندر پی ایس ایل کے دوسرے ایڈیشن میں بھی 5ویں نمبر پر رہی تھی تاہم اس بار لاہور قلندر کے مالک رانا فواد نےایک بار پھر اپنی ٹیم کو نئے عزم اور ولولے کے ساتھ میدان میں اتارا ہے۔ عوامی و صحافتی حلقوں کا کہنا ہے
کہ لاہور قلندر میں نہ صرف جیتنے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ یہ بڑا اپ سیٹ کرنے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے تاہم بدقسمتی سے یہ ابھی تک فتح کا جام چکھنے میں ناکام ہے ۔ عوامی حلقوں کی جانب سے رانا فواد اور ان کی ٹیم کو حوصلہ دیتے ہوئے سوشل میڈیا پر کئی صارفین نے ان کی ہر حال میں کھلاڑیوں کا حوصلہ بڑھانے کی عادت کو سراہتے ہوئے انہیں نہایت مضبوط اعصاب کا مالک کہا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ رانا فواد کی ٹیم لاہور قلندر بدقسمتی سے جیت نہیں پا رہی تاہم رانا فواد کا کھلاڑیوں کو حوصلہ دینا اور میچ کے سنسنی خیز لمحوں میں بھی اپنے اعصاب پر قابو رکھنا قابل ستائش ہے۔



















































