جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

پولیس افسر کو گاڑی سے کچلنے والے رکن اسمبلی کو باعزت بری کر دیا گیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل کیس میں بلوچستان کے رکن اسمبلی عبدالمجید خان اچکزئی کو باعزت بری کر دیا گیا، تفصیلات کے مطابق جوڈیشل مجسٹریٹ نے ٹریفک پولیس اہلکار کے قتل میں استعمال ہونے والی گاڑی کی ٹیمپرنگ کے کیس میں بلوچستان کے رکن اسمبلی عبد المجید خان اچکزئی کو باعزت بری کردیا ہے لیکن وہ دیگر مقدمات میں ابھی تک حراست میں ہیں، کوئٹہ میں پولیس اہلکار کو گاڑی سے کچلنے

کے بعد معلوم ہوا تھا کہ مجید خان اچکزئی کے زیراستعمال گاڑی نان کسٹم پیڈ ہے جس کے بعد ان پر گاڑی ٹیمپرنگ کے مقدمہ کا اندراج بھی کردیا گیا تھا، کوئٹہ کی انسدادِ دہشت گردی عدالت میں پولیس اہلکار قتل کیس کی سماعت کے دوران گواہان بھی پیش ہوئے اور دلائل سنے گئے۔ عدالت نے کیس کی سماعت 28 دسمبر تک ملتوی کردی، یاد رہے کہ جون 2017ء میں ٹریفک پولیس کے سب انسپکٹر حاجی آیت اللہ کو مجید اچکزئی نے اپنی گاڑی سے ٹکر مار دی تھی، مجید اچکزئی کی گاڑی کی ٹکر سے سب انسپکٹر موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا تھا، اس کیس کے شروع میں پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی مگر میڈیا اور خاص کر سوشل میڈیا پر خبریں آنے کے بعد رکن اسمبلی مجید اچکزئی کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔ اس موقع پر رکن اسمبلی عبد المجید اچکزئی نے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ٹریفک پولیس اہلکار کے اہل خانہ کو خون بہا ادا کرنے کو تیار ہیں، عبد المجید اچکزئی نے میڈیا میں چلنے والے بعض رپورٹس کی مذمت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ چند حلقوں نے مجھے مجرم قرار دیا جبکہ مجید اچکزئیکا کہنا تھا کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو وہ خود گاڑی میں موجود نہیں تھے۔  بلوچستان کے رکن اسمبلی عبد المجید خان اچکزئی کو باعزت بری کردیا ہے لیکن وہ دیگر مقدمات میں ابھی تک حراست میں ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…