پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا وزیر مملکت برائے داخلہ کے نہ آنے پر برہمی کا اظہار ٗ پھر مستعفی ہونے کی دھمکی

datetime 22  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی) چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے ایک بار پھر مستعفی ہونے کی دھمکی دیدی۔ جمعہ کو سینیٹ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی سربراہی میں شروع ہوا تو چیئرمین نے وزیر مملکت برائے داخلہ کے نہ آنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزارت داخلہ سے متعلق 33 سوالات ہیں، وزیر مملکت داخلہ ابھی تک نہیں آئے، یہ سینیٹ ہے کوئی رج واڑا نہیں کہ جب وزیر کی مرضی ہوایوان میں آئے ٗوزارت داخلہ کے

سوالات کو مؤخر کرتا ہوں۔چیرمین سینیٹ نے کہا کہ وزیر مملکت داخلہ کی سینیٹ کارروائی میں رکاوٹ ڈالنے پرآنے سے روک سکتا ہوں ٗسینیٹ قواعد کے تحت وزیر مملکت داخلہ کے سیشن میں آنے پر پابندی لگا سکتا ہوں ٗ وزیر مملکت داخلہ کو کہہ سکتا ہوں کہ وہ سینیٹ ایوان سے نکل جائیں ٗاگر وزارت داخلہ کے سوالات لیتا ہوں تو بل کو آج منظور نہیں کر سکیں گے۔چیرمین سینیٹ کی برہمی پر راجا ظفر الحق نے کہا کہ وزیر مملکت داخلہ کو در گزر کر دیں، یقین دہانی کراتا ہوں دوبارہ نہیں ہوگا۔چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ کیا میں سینیٹ کو گروی رکھ دوں ٗآج ایجنڈے میں انتخابی اصلاحات کا بل بھی ہے ٗحالیہ اجلاس کے دوران پہلے بھی وزارت داخلہ کے سوالات کو مؤخر کیا گیا۔سینیٹ میں آرٹیکل 60 میں ترمیم پرووٹنگ ہوئی اور ترمیم کو کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا لیکن وزیرقانون نے ترمیم پردوبارہ ووٹنگ کرانے کی اجازت مانگ لی جس پر چیرمین سینیٹ نے کہا کہ ایک بارووٹنگ کرواچکا ہوں، دوبارہ ایسا نہیں کراسکتا۔وزیر قانون نے کہا کہ آپ ایوان سے رائے پوچھ لیں ٗاس موقع پر پیپلزپارٹی کے فاروق ایچ نائیک نے بھی زاہد حامد کی حمایت کردی اور ایوان میں وزیر قانون کی تجویز پر دوبارہ ووٹنگ ہوئی، وزیرقانون کی ترمیم کی حمایت میں47 اورمخالفت میں 31 ووٹ آئے۔چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈپٹی چیئرمین صاحب، اب باقی بل کی

منظوری آپ کروائیں اور پھر انہوں نے 5 منٹ کیلئے اجلاس ملتوی کیا۔چیرمین سینیٹ نے استعفے کی دھمکی دی اور پھر اپنے چیمبر میں چلے گئے۔ چیرمین سینیٹ کی دھمکی کے بعد کئی سینیٹر معاملہ حل کرانے کیلئے ان کے چیمبر میں گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…