منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

’’چمکتے دانت ۔۔مہکتی سانسیں صرف چند ہی لمحوں میں‘‘لیموں کے چھلکوں کو پھینکیں نہیں بلکہ

datetime 11  اگست‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) چمک دار شفاف دانت شخصیت کی خوب صورتی بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ہمارے چہرے کی سب سے اہم چیز مسکراہٹ ہے جس کی وجہ سے ہمارا چہرہ نہ صرف نکھر جاتا ہے بلکہ دوسروں کو متاثر کرنے میں بھی مسکراہٹ ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اور اگر اس مسکراہٹ میں آپ کے پیلے ،بدنما دانت شامل ہوجائیں تو سارا تاثر الٹ ہوجائے گا۔

اس لیے اپنی شخصیت کو نکھارنے کے لیے دانتوں پر خاص توجہ دیجیے۔دانتوں کی چمک ، اور منھ کی بدبو یہ دو خاص عنصر ہیں جن پر ہمیں توجہ دینی ہے۔زرد دانت اور منھ سے خارج ہونے والی بدبو متأثر کن شخصیت کے حامل فرد کو بھی دوسروں کے لیے ناپسندیدہ بنادیتی ہے اور لوگ اس کے قریب بیٹھنے سے کترانے لگتے ہیں۔ یہ دونوں مسئلے چند گھریلو ٹوٹکوں پر عمل کرنے سے بہ آسانی حل ہوسکتے ہیں۔منھ کی بدبو دور کے لیے صبح شام نمک ملے نیم گرم پانی سے کلیا ں کرنے کی عادت اپنائیں۔ باورچی خانے میں کام کرتے ہوئے ہرا دھنیا صاف کریں تو اس کی ڈنڈیاں کچرے میں نہ پھینکیں بلکہ تھوڑی دیر تک چیونگم کی طرح چبائیں۔ اس سے منھ کی بدبو دور کرنے میں مدد ملے گی۔دانتوں کو چمکانے کیلیے میٹھا سوڈا، لیموں کارس، اور نمک ہم وزن لے کر پیسٹ بنالیں اور صبح شام اس سے برش کریں، دانت چند دنوں میں چمک جائیں گے۔ ناریل کا تیل رگڑنے سے بھی دانت خوب چمک جاتے ہیں۔ اسی طرح شہد ملے پانی سے کلیاں کرنے سے نہ صرف دانت چمک جاتے ہیں بلکہ مسوڑھوں کی جملہ بیماریوں سے بھی نجات ملتی ہے کیوں کہ شہد میں اینٹی سیپٹک اجزا شامل ہوتے ہیں۔لیموں کے چھلکوں کو ضائع کرنے کے بجائے انھیں دھوپ میں سکھا کر سفوف بنا لیں۔ جب کبھی کسی دعوت میں جانا ہو خوب رگڑ کر برش کیجیے نہ صرف دانت چمک جائیں گے بلکہ سانسیں بھی مہک جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…