منگل‬‮ ، 01 ستمبر‬‮ 2026 

یہ پاکستانی منرل واٹر پینے سے آپ خطرناک بیماریوں کا شکار ہو سکتے ہیں

datetime 12  اگست‬‮  2017 |

کراچی(این این آئی)پینے کے صاف پانی کے نام پر فروخت کئے جانے والے بوتل بند(منرل واٹر)کے گیارہ برانڈ کا پانی کیمیائی اور جراثیمی طور پر آلودہ پایا گیا ہے جس کے پینے سے دل کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ یرقان، پھیپھڑوں،مثانے، جلد، پراسٹیٹ،گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے ۔پاکستان آبی وسائل کی تحقیقاتی کونسل (پی سی آر ڈبلیو آر)کی طرف سے جاری اپریل تاجون کی تجزیاتی رپورٹ میں انکشاف

کیاگیاہے کہ کراچی، راولپنڈی ، اسلام آباد ،سیالکوٹ، پشاور، گلگت، ملتان، لاہور ، بہاولپور، اورٹنڈوجام سے بوتل بند/ منرل پانی کے 77 برانڈز کے نمونے حاصل کئے گئے ۔ان نمونوں کا پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی (پی ایس کیو سی اے)کے تجویز کردہ معیار کے مطابق تجزیہ کیاگیا، اس تجزیئے کے مطابق 11 برانڈز(نیو پریمیر، نیچرل پیور واٹر،لیون، فریش لائف، الشلال، ایکوا جین، وے، سمارٹ منرل واٹر، السحر، دورو اور دوآب) برانڈز کے نمونے کیمیائی اور جراثیمی طور پر آلودہ پائے گئے۔ان میں2 نمونوں (نیو پریمیراور نیچرل پیور واٹر)میں سنکھیا کی مقدار اسٹینڈرڈ سے زیادہ (13 پی پی بی سے لیکر 23 پی پی بی)تک تھی جبکہ پینے کے پانی میں اس کی حدِ مقدار صرف 10 پی پی بی تک ہے، سنکھیا کی زیادہ مقدار کی موجودگی سے پھیپھڑوں، مثانے،جلد، پراسٹیٹ، گردے، ناک اور جگر کا کینسر ہو سکتا ہے۔اس کے علاوہ بلڈ پریشر ، شوگر، گردے اور دل کی بیماریاں، پیدائشی نقائص اور بلیک فٹ جیسی بیماریاں بھی ہو سکتی ہیں،آلودہ برانڈز میں سے 8نمونے (فریش لائف، الشلال، ایکواجین، وے، سمارٹ منرل واٹر، السحر، دورو اور دوآب) جراثیم سے آلودہ پائے گئے جس کی وجہ سے ہیضہ، ڈائریا، پیچس، ٹائیفائیڈ اور یرقان کی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔دو برانڈز(نیو پریمیراور لیون)کے نمونوں میں سوڈیم کی مقدار اسٹینڈرڈ سے زیادہ (61 سے لے کے66 پی پی ایم)پائی گئی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)


میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…