ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’650 ارب روپے کے عطیات‘‘ پاکستانی دنیا بھر میں سب پر بازی لے گئے

datetime 1  اگست‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی)پاکستانی ہر سال 650ارب روپے کے لگ بھگ رقم چیرٹی اور عطیات کی مد میں دیتے ہیں لیکن اس کا صحیح استعمال ایک بڑا چیلنج ہے، اس سلسلے میں شعور و آگہی پیدا کرنے اور حکومت کو اپنی ذمہ داری نبھاہنے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار لارڈ میڈور لاہور کرنل (ر) مبشر جاوید، لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط ،سینئر نائب صدر امجد علی جاوا اور دیگر ماہرین نے لاہور چیمبر میں سیف چیرٹی

پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ میاں انجم نثار، ملک طاہر جاوید، میاں عبدالرزاق، میاں محمد نواز، طاہر منظور چودھری، سلمان باسط، سیدہ دیپ اور ڈاکٹر راغب نعیمی نے بھی اس موقع پر خطاب کیا۔ لارڈ میئر لاہور نے کہا کہ کاروباری برادری معاشی ترقی کے ساتھ سماجی شعبے میں بھی اہم خدمات سرانجام دے رہا ہے، لاہور چیمبر کے زیرسایہ لبارڈ منظم چیرٹی کی بہترین مسائل ہے، اس فورم کے ذریعے لوگ براہِ راست دکھی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں۔ ڈاکٹر راغب نعیمی نے کہا کہ سیف چیرٹی وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ یقینی بنایا جائے چیرٹی مستحق لوگوں تک پہنچے۔ لاہور چیمبر کے صدر عبدالباسط نے کہا کہ چیرٹی یا عطیات صرف اچھے کاموں کے لئے ہی ہونے چاہئیں۔ پاکستانی قوم خیرات و عطیات دینے کے حوالے سے بہت سخی ہے،عام عوام کے علاوہ تاجر برادری بھی خدمتِ عامہ میں دل کھول کر حصہ لیتے ہیں۔ کُل پبلک لسٹڈ کمپنیزمیں سے 55% کمپنیاں خدمت خلق کے کاموں میں براہِ راست حصہ لیتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چیرٹی اور عطیات سے اکٹھی کی رقم سماج دشمن سرگرمیوں میں استعمال ہوتی رہیں لہذا عطیات دینے والوں کو اطمینان کرلینے کے بعد ہی رقم مستحقین کو دینی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ چیرٹی پر پہلا حق ہمارے مستحق عزیز رشتے داروں اور ہمسایوں کا ہے۔اگر کسی ادارے کو چیریٹی دینا ہو تو یہ خیال رکھنا ضروری ہے کہ وہ حکومت کی جانب سے بلیک لسٹ قرارنہ دیا گیاہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…