جمعہ‬‮ ، 18 ستمبر‬‮ 2026 

کراچی میں جب لاشیں گر رہی تھیں متحدہ بانی قاتلوں کو کیسے مبارکباد دیتے رہے۔۔پاک فوج سب کہانی سامنے لے آئی

datetime 26  جولائی  2017 |

اسلام آباد(مانیـٹرنگ ڈیسک)17جولائی کو کراچی کے علاقے اورنگی ٹائون میں 2افراد کو قتل کرنے والے ملزمان کا تعلق متحدہ لندن سے ، ملزمان سوشل میڈیا کے ذریعے سائوتھ افریقہ میں متحدہ لندن کے سیٹ اپ سے رابطے میں تھے، متحدہ بانی نے واٹس ایپ کے ذریعے وائس میسج ارسال کیا جس میں ملزمان کو مبارکباد دی گئی، پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان کرنل قیصر خٹک

کا پریس کانفرنس میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان رینجرز سندھ کے ترجمان کرنل قیصر خٹک نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا ہے کہ 17 جولائی کو 2 افراد کو اورنگی ٹاؤن میں قتل کیا گیا ان کے قتل میں ملوث ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے۔ ملزمان کا تعلق ایم کیو ایم لندن سے ہے جبکہ ملزمان سوشل میڈیا کے ذریعے ساؤتھ افریقہ کے سیٹ اپ سے رابطے میں تھے۔ان کا مزید کہنا تھا گرفتار ملزمان کو واردت کے 2 دن بعد ساؤتھ افریقہ سے واٹس ایپ کے ذریعے پیغام دیا گیا تھا اور قتل پر متحدہ بانی نےاپنے وائس میسج کے ذریعے ملزموں کو مبارکباد دی۔کرنل قیصر خٹک کا کہنا تھا کہ اب وہ وقت گزر گیا جب لندن اور ساؤتھ افریقہ سے کال پر لاشیں گر جایا کرتی تھیں جبکہ بھتہ نہ دینے کی صورت میں شہر میں آگ لگ جایا کرتی تھی اور شہر کو بند کر دیا جاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹائون میں قتل و غارت کرنے والے گرفتارملزمان متحدہ بانی کے حق میں شہر میں وال چاکنگ میں بھی ملوث تھے جبکہ ان کے اکائونٹ میں 50ہزار روپے بھی بھجوائے گئے تھے۔ملزمان نے اپنے ساتھیوں کے نام بھی اگل دئیے ہیں۔اب وہ وقت گزر گیا جب لندن اور ساؤتھ افریقہ سے کال پر لاشیں گر جایا کرتی تھیں جبکہ بھتہ نہ دینے کی صورت میں شہر میں آگ لگ جایا کرتی تھی اور شہر کو بند کر دیا جاتا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اورنگی ٹائون میں قتل و غارت کرنے والے گرفتارملزمان متحدہ بانی کے حق میں شہر میں وال چاکنگ میں بھی ملوث تھے جبکہ ان کے اکائونٹ میں 50ہزار روپے بھی بھجوائے گئے تھے۔ملزمان نے اپنے ساتھیوں کے نام بھی اگل دئیے ہیں



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…