جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

خواتین کو آرائشی عبایہ اور میک اپ استعمال کرنا چاہئے یا نہیں؟سعودی عالم دین کے موقف پر خواتین کاشدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 8  جولائی  2017 |

ریاض( آن لائن )سعودی عرب میں خواتین نے ایک ایسے دینی عالم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے جنھوں نے تجویز کیا تھا کہ خواتین کو آرائشی عبایہ اور میک اپ استعمال نہیں کرنا چاہیے۔محمد الرافع ایک معروف مذہبی سکالر ہیں اور انھوں نے خواتین کے پہننے والے عبایہ کے بارے میں تجویز جاری کی تھی۔ عبایہ عموماً اسلامی ممالک میں پہنا جاتا ہے تاہم اس کے رنگ اور انداز کافی مختلف ہوتے ہیں۔

ٹوئٹر پر ایک پیغام میں محمد الرافع نے کہا تھا کہ ’اے میری بیٹی، ایسا عبایہ مت خریدو جس پر کوئی آرائش ہو، کوئی سجاوٹ یا کڑھائی ہو یا کوئی چاک ہو۔ براہ مہربانی بیٹی کوئی میک اپ نہ ظاہر کرو اور (اسلام سے قبل) زمانہِ جہالت جیسا میک اپ نہ کرو۔‘بہت سی خواتین نے ان کے اس پیغام کا انتہائی طنزیہ جواب دیتے ہوئے اپنے ملبوسات کی تصاویر شائع کی ہیں اور ان سے منظوری مانگی ہے۔ ایک اور خاتون نے ٹویٹ کیا ’میں اپنے انہتائی خوبصروت عبایہ دیکھانا چاہوں گی۔‘تاہم محمد الرافع کی ٹویٹ عرب ٹوئٹر (عربی میں ٹوئٹ کرنے والے) پر 31,000 مرتبہ ری ٹوئیٹ کی گئی ہے۔ایک خاتون نے اپنی عبایہ کی تصویر ٹوئٹ کر کے پوچھا، ’میرے عبایہ کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے یا شیخ؟ آئندہ میں رنگ برنگے آرائش والے عبایہ خریدوں گی۔ میں ایسی عبایہ خریدنے کی کوشش کروں گی جو لوگ اسلام سے قبل بھی نہیں پہنتے تھے۔‘ایک اور خاتون نے ٹویٹ کی ’میں اپنے انہتائی خوبصورت عبایہ دکھانا چاہوں گی۔‘ایک اور صارف نے پوچھا کہ میں اپنے عبایہ پر انتہائی شوخ آرائش کر رہی تھی تو کیا یہ اس ملک کے لیے ٹھیک ہے۔ میں سعودی عرب نہیں فلسطین سے ہوں۔‘مسلم ممالک کی فیشن صنعت میں عبایہ مقبول ہوتا جا رہا ہے اور اب یہ بین الاقوامی کیٹ واکس پر بھی نظر آنے لگا ہے۔

مغربی ممالک میں بھی بہت سی دکانیں بشمول ہیرڈز نے اب عبایہ رکھنے شروع کر دیے ہیں اور عالمی ڈزائنرز بھی یہ بنانے لگے ہیں۔مگر سعودی عرب میں بہت سے لوگوں کے لیے عبایہ فیش سے زیادہ مذہب کا معاملہ ہے۔ اور سعودی عرب جیسے انتہائی قدامت پسند ملک میں اس خیال کو کہ عبایہ فیشن سٹیٹمنٹ اور مذہبی ضرورت ہو ہو سکتا ہے، ایک تضاد سمجھا جاتا ہے۔

اس معاشرے میں خواتین پر یہ لازم سمجھا جاتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو مردوں سے بچانے کے لیے سادگی اختیار کریں۔دسمبر 2016 میں کچھ سعودی خواتین کے ریاض کی ایک گلی میں بغیر عبایہ کے کھڑے ہوئے تصویر سے سوشل میڈیا پر بہت تنقید کی گئی تھی اور اس خاتون کی گرفتاری کے مطالبے بھی کیے گئے تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…