جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

14 سال کے قلیل ترین عرصے میں اقتدار حاصل کرلینے والا طاقتورحکمران ہٹلر اپنے مقاصد میں کامیاب کیوں نہیں ہو سکا؟

datetime 7  جولائی  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک ) ہٹلر اپنی دلچسپ اور بے سروپا داستان حیات کے سبب بھی یاد رکھاجائے گا کہ ایک بدیسی (ہٹلر جرمنی میں نہیں، بلکہ آسٹریا میں پیدا ہوا تھا) کسی سیاسی تجربہ، دولت یا سیاسی روابط کے بغیر چودہ سال سے بھی کم عرصہ میں دنیا کے ایک بڑے طاقت ور ملک کا سربراہ بن گیا۔ ایک خطیب کی حیثیت سے اس کی اہلیت غیرمعمولی تھی۔ اس اعتبار سے کہ اس میں لوگوں کو اپنی منشاء کے مطابق بدل دینے کی بے پناہ طاقت موجود تھی۔ یہ کہنا بجا ہے کہ ہٹلر تاریخ کا ایک مؤثرترین خطیب تھا۔

آخری بات یہ ہے کہ اس حقیقت کو بھی فراموش نہ کیاجائے گاکہ کس طورپر اس نے بے پناہ طاقت حاصل کر کے اسے اپنے مذموم اورشیطانی مقاصد کے لیے استعمال کیا۔غالیباَ یہ بات درست ہے کہ کسی دوسری تاریخی شخصیت نے ایڈولف ہٹلر سے بڑھ کراپنی نسل پر اس قدر گہرے اثرات ثبت نہیں کیے۔ ان لاکھوں افراد کے علاوہ جو جنگ میں کھیت رہے، یاجنہیں نازیوں کی قتل گاہوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔ ان لوگوں کی تعداد بھی لاکھوں میں ہے، جو اس جنگ و جدل کے باعث بے گھرہوئے اورجن کی زندگیاں تباہ ہوئیں۔ ہٹلر کی اثرانگیزی کاتعین کرتے ہوئے، وہ عوامل کو ضرور مدنظر رکھنا چاہیے۔ اول یہ کہ اس کی زیرقیادت جوواقعات رونما ہوئے، اس کے بغیر کم ازکم حالات اس قدر سنگین اور ہولناک نہ ہوتے ( اس حوالے سے یہ چارلس ڈارون یا سیمون بولیور جیسی شخصیات سے برعکس ہے) یہ درست ہے کہ جرمنی اوریورپ میں موجود صورت حال نے ہٹلر کو کھل کر کھیلنے کاموقع دیا۔ اس کے سامی النسل اقوام کے خلاف رویے اورفوجی بیانات نے اپنے سامعین میںخاص طورپر ایک واضح رد عمل پیدا کیا۔اس بات کے شواہد موجود نہیں ہیں کہ1920ء یا1930ء کی دہائیوں میں جرمنوں کی خواہش یہی رہی کہ ان کی حکومت ایسی شدید حکمت عملیاں اختیار کرے، جیسی ہٹلر نے اپنائیں۔ نہ ہی ایسا قیاس کیاجاسکتا ہے کہ دوسرے جرمن سربراہ بھی ایسی ہی سوچ کامظاہرہ کرتے۔

نہ ہی درحقیقت ہٹلر کے دور کے اصل واقعات سے متعلق کوئی بیرونی مبصر صحیح پیشین گوئی کر سکتا تھا۔ دوئم تمام نازی تحریک کی قیادت غیرمعمولی حد تک ایک ہی قائد کے ہاتھوں میں تھی۔ مارکس ’لینن‘ سٹالن اوردیگر رہنمائوں نے اشتمالیت پسندی کے فروغ کے لیے بنیادی کردار اداکیے۔ لیکن قومی اشتراکیت پسندی کو ہٹلر سے پہلے کوئی قابل ذکر رہنما میسر نہیں آیا، اورنہ ہی بعد میں ملا۔ اس نے نازیوں کواقتدار دلایا، اور ان کے دوراقتدار میں مسلسل اپنی حاکمیت کو مستحکم رکھا۔ جب وہ مرا تواسکی زیر قیادت موجود نازی جماعت اور حکومت بھیاس کیساتھ فنا ہوگئی۔

ہٹلر کے اگرچہ اپنی نسل پراثرات بہت گہرے ہیں۔ اس کے برعکس مستقبل کی نسلوں پر اس کے اثرات اسی نسبت سے کم معلوم ہوتے ہیں۔ہٹلر اپنے مقاصد کے حصول میں یکسر ناکام رہا، جبکہ مستقبل کی نسلوں پر اسکے جو اثرات دکھائی دیتے ہیں، وہ اس کے مقاصد اور منشاء کے قطعی برعکس ہیں۔ مثال کے طورپر ہٹلر جرمنی کی طاقت اور سلطنت کووسیع کرنے کا خواہش مند تھا۔ لیکن اس کی فتوحات بلحاظ حجم بڑی ہونے کے باوجود ناپائیدار تھیں۔ سو آج جرمن کے پاس اتنا علاقہ بھی باقی نہیں رہا، جو ہٹلر سے پہلے اس کے تسلط میں تھا۔ یہودیوں کو نیست ونابود کرنے کا ہٹلر کاجذبہ بے شک نہایت شدید تھا، لیکن اس کے قریب پندرہ برس بعد ہی یہودیوں نے ایک علیحدہ خود مختار ریاست حاصل کرلی،

جیسا گزشتہ دو ہزار برسوں میں ممکن نہیں ہوسکاتھا۔ ہٹلر کو اشتمالیت پسندی اور روس سے شدید نفرت تھی۔ اس کی موت کے وقت اورکسی حد تک اس کے جنگ کے نتیجہ میں روسیوں کو مشرقی یورپ کے بیشتر علاقے میں اپنی حدود کو پھیلانے کا موقع ملا۔ تاہم دنیا میں تب اشتراکی اثرات بھی بڑھے۔ ہٹلر جمہوریت سے بھی متنفر تھا۔ اور اس کی بیخ کنی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن نہ صرف دوسری اقوام میں بلکہ خود جرمنی میں بھی اسی نظام نے تقویت پائی۔ تاہم جرمنی میں ایک فعال جمہوری نظام قائم ہے۔ وہاں عوام ان نسلوں سے کہیں زیادہ جمہوری قوانین اور قائدین کا احترام کرتے ہیں، جو ہٹلر سے پہلے موجودہ تھیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…