جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کیلئے 15 ماہ تک تیاری کی ٗ سابق بھارتی وزیر دفاع کی ہرزہ سرائی ،عمرعبداللہ کے جواب نے ہی شرمندہ کردیا

datetime 1  جولائی  2017 |

نئی دہلی (این این آئی)سابق بھارتی وزیر دفاع منوہر پاریکر نے پھر ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہاہے کہ آزاد کشمیر میں سرجیکل سٹرائیکس کیلئے پندرہ ماہ تک تیاری کی گئی اور جب ایک صحافی نے اس حوالے سے ہتک آمیز سوال کیا تو انھوں نے وقت آنے پر اس کا جواب دینے کا فیصلہ کیا۔ دی ٹائمز آف انڈیا کے مطابق سابق وزیردفاع کا کہنا ہے کہ جب انھوں نے وزاتِ دفاع کا چارج سنبھالا تو وزات کی بری حالت تھی اور افراتفری کا سما تھا۔

آزاد کشمیر میں انڈیا کی جانب سے کی جانے والی مبینہ سرجیکل سٹرائیکس کے حوالے سے منوہر پاریکر کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے اضافی فوجیوں کو تربیت دی گئی۔سابق وزیرِ دفاع نے کہا کہ بھارت اور برما کی سرحد پر جب انھیں بھارتی فوجیوں پر حملے کی اطلاع ملی تو اس وقت بھی انھیں ایسا محسوس ہوا کہ جیسے ان کی ہتک کی گئی ہو۔سابق بھارتی منوہر پاریکر کے مطابق برما کی سرحد پر جس دہشت گرد گروہ نے انڈین آرمی پر حملہ کیا تھا ان کے خلاف سرحد پار کامیاب کاروائی کی گئی۔تقریب سے خطاب کرتے ہو منوہر پاریکر کا کہنا تھا کہ وہ ایک ٹی وی پروگرام دیکھ رہے تھے جس میں برما میں کی جانے والی کارروائی پر بات ہو رہی تھی جب ایک اینکر نے ایک سابق فوجی افسر سے سوال کیا کہ کیا آپ مغربی سرحد پر بھی ایسی کارروائی کرنے کی صلاحیت اور جرت رکھتے ہیں۔سابق وزیرِ دفاع کے بقول انھوں نے وہ سوال بہت غور سے سنا اور مناسب وقت پر اس کا جواب دینے فیصلہ کیا۔ادھر مقبوضہ کشمیر سابق کٹھ پتلی وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے منوہر پاریکر کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس طرح حکومتی فیصلہ سازی ہوتی ہے تو کیا ہمیں خود کو محفوظ تصور کرنا چاہیے۔سماجی رابطوں کی سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں عمر عبداللہ نے لکھا کہ سرجیکل سٹرائیک اوڑی حملے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس لیے کی گئی کیونکہ ایک وزیر سے کسی نے ہتک آمیز سوال پوچھا تھا ٗ انسان اس بارے میں کیا کہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…