انٹیلی جنس کے حساس ترین شعبے کیلئے انٹرویو ہورہے تھے۔ کل تین امیدوار تھے۔ انٹرویو لینے والے پینل کے سربراہ نے ان کو کہا کہ جس شعبے کیلئے ہم نے آپ کا انتخاب کرنا ہے یہ بے حد اہم نوعیت کا حامل ہے، اس میں ہمیں سو فیصد فرض شناس اور ملک و قوم کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے والے افراد کی ضرورت ہے۔
آپ کو ایسے کام بھی کرنے کا حکم دیا جائے گا جو آپ کو پسند نہیں ہوں گے لیکن آپ کی ڈیوٹی کا تقاضا ہوگا کہ آپ وہ کریں۔ تینوں نے یک زبان ہوکر کہا کہ وہ ملک کی خاطر سب کچھ کرگزرنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔آفیسر نے میز پر ایک پستول رکھا اور پہلے جوان کو کہا کہ کمرہ نمبر ایک میں جائو وہاں تمہاری بیوی بیٹھی ہے اس کو گولی مار کے آئو۔پہلا جوان اٹھا کچھ دیر سوچا لیکن پھر بیٹھ گیا‘کہنے لگا۔ میں یہ نہیں کرسکتا‘ میں اپنی بیوی سے بہت محبت کرتا ہوں ‘آفیسر نے اس کو باہر جانے کو کہا اور دوسرے جوان کو بھی یہی کہا کہ دوسرے کمرے میں تمہاری بیوی بیٹھی ہے جائو اس کو گولی مار کے آئو۔دوسرا جوان اٹھا، پستول ہاتھ میں لیا لیکن دروازے سے واپس آگیا‘سر ! میں اپنی بیوی کو گولی نہیں مارسکتا، ہمارے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، ماں کے بغیر ان کا کیا بنے گا؟ آئی ایم سوری سر! آفیسر نے اس کو بھی باہر جانے کا کہہ کر تیسرے آدمی کو کہا وہ دوسرے کمرے میں جائے اور اپنی بیوی کو گولی مار کے آئے۔تیسرا آدمی جلدی سے اٹھا اور ساتھ والے کمرے میں گیا۔ پہلے تو ایک ہلکی سی کلک ، ڈف کی آواز آئی۔ پھر دو تین مزید ایسی ہی کلک ، ڈف کی آوازوں کی بعد ٹھک ٹھک کی آوازیں آئیں۔ چند منٹ بعد تیسرا امیدوار انٹرویو والے کمرے میں واپس آیا۔ ماتھے سے پسینہ پونچھتے ہوئے کہا۔ سر آپ نے جو پستول دیا تھا، اس میں تو نقلی گولیاں تھیں مجبورا مجھے کرسی مار مار کر مارنا پڑا۔

























