کسی فقیر نے بحالت مجبوری اپنے دوست کی کملی چرا کر فروخت کر دی۔ معلوم ہونے پر گرفتار ہو کر قاضی کی عدالت میں پیش ہوا۔ قاضی نے شرعی حکم ہاتھ کاٹنے کا لگایا۔ کملی والے دوست نے سفارش کی اور کہا کہ میں نے اسے معاف کر دیا ہے۔ قاضی نے کہا۔” تیری سفارش اپنی جگہ، شرعی حد اپنی جگہ۔ اس فیصلہ میں کوئی رعایت نہیں ہے۔”اس نے کہا۔” یہ درست ہے لیکن وقف مال سے چوری پر شرعی حد نافذ نہیں ہوتی۔ یاد رکھیں، فقیر کسی چیز کا
مالک نہیں ہوتا اور جو فقیروں کے پاس ہے، وہ ضرورت مندوں پر وقف ہے۔”۔ قاضی نے اسے چھوڑ دیا اور ملامت شروع کر دی۔” کیا تجھے ایک ایسے دوست کے گھر سے چوری کرتے ہوئے شرم نہیں آئی؟ کیا ساری دنیا تجھ پر تنگ ہو گئی تھی؟” فقیر نے جواب دیا۔” آپ کو معلوم نہیں کہ دوستوں کے گھر میں جاڑو پھیرنا دشمنوں کے دروازے کھٹکھٹانے سے بہتر ہے۔”حاصل کلام؛دوست کے سامنے شرمندگی، کسی دشمن کے سامنے ندامت سے بہتر ہے۔

























