بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

اللہ نے مجھے ذلت سے بچایا

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

شہور ادیب اشفاق احمد لکھتے ہیں کہ ایک بار لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں ایک بھارتی گلوکار نے کنسرٹ کیا۔رقص و موسیقی کی محفل میں پاکستان کے نامور شخصیات کو مدعو کیا گیا۔ مہمانوں کی تواضع ہر قسم کے مشروبات سے کی گئی جبکہ پاکستانی فلمی اداکاراوُں نے رقص کر کے بھارتی گلوکار کا ساتھ دیا اور دیکھنے والوں سے خوب داد وصول کی۔اس تقریب میں پاکستان کے نامی گرامی سیاستدان، اداکار، دانشور اور بڑی بڑی شخصیات مدعو تھیں۔

سکیورٹی کا سخت انتظام تھا، مشہور فلسفی اشفاق احمد صاحب کو بھی دعوت نامی بھیجا گیا۔ اشفاق صاحب جب قذافی سٹیڈیم پہنچے تو انہیں احساس ہوا کہ وہ دعوت نامہ ساتھ لانا بھول گئے ہیں۔ انہوں نے سکیورٹی کے عملہ سے کہا کہ وہ دعوت نامہ لانا بھول گئے ہیں انہیں اندر آنے دیا جائے۔ سکیورٹی والوں نے انہیں اندر آنے نہ دیا۔ انہوں نے بہت کہا کہ وہ ملک کی مشہور شخصیت ہین مگر سکیورٹی والوں نے نہ صرف انہیں پہچاننے سے انکار کر دیا بلکہ دھکے مار کر وہاں سے ہٹا دیا اور کہا کہ بابا جی یہاں ہر کوئی مشہور بنا پھرتا ہے۔ جاوُ ہمیں اپنا کام کرنے دو۔ تنگ نہ کرو۔ بقول اشفاق صاحب مجھے بہت دکھ ہوا کہ ایسا میرے ساتھ کیوں ہوا؟  کیا میری اتنی بھی اوقات نہیں تھی کہ مجھے ایک کارڈ کے بغیر پہچان لیا جاتا؟۔ میں بے عزتی کے احساس کی وجہ سے پوری رات سو نہیں پایا۔ صبح اٹھ کر جب اخبار دیکھا تو اخبار بھرا پڑا تھا گزشتہ رات کی تقریب کی خبروں سے سرخی تھی کہ ۔بھارتی گلوکار کارگل میں بھارتی فتح کا جشن منا کر چلا گیا، بیوقوف پاکستانی شراب کے نشے میں دھت ڈھول کی تھاپ پر بھارتی فتح کا جشن مناتے رہے۔  بھارتی گلوکار نے جان بوجھ کر اسی تاریخ کو شو کیا جب پاکستان نے کارگل سے فوج واپس بلائی تھی اور بھارت نے فتح کا اعلان کیا تھا۔

افسوس ناک بات یہ کہ پوری رات پاکستان کی خواتین بھی ناچتی رہیں اور پاکستان کو رسوا کرتی رہیں۔ تقریب میں شامل ہونے والی تمام شخصیات کے ناموں کے ساتھ تصاویر بھی شائع ہوئیں۔ اور آخری لائن یہ تھی کہ اس تقریب میں اشفاق احمد بھی مدعو تھے مگر وہ اس ذلت آمیز تقریب میں شامل نہیں ہوئے۔ یہ خبر پڑھ کر میں نے اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ادا کیا کہ اس نے مجھے ایسی جگہ سے دھکے مار کر نکلوا دیا

جہاں میرا ملک بدنام ہو رہا تھا۔ اللہ نے مجھے ایک گناہ سے بچا لیا۔ اور میں اسکے اس احسان کا شکر ادا کرنے کی بجائے ساری رات غمگین رہا۔ جس بات کو میں اپنی بےعزتی سمجھ رہا تھا اس میں تو میری عزت تھی۔ اللہ کے ہر کام میں مصلحت ہوتی ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے جسے چاہے رسوا کرے۔ اللہ سے بدگمان نہ ہونا۔ وہ سب جاننے والا اور بہت حکمت والا ہے.

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…