بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

حضرت عمرؓکا قول

datetime 7  جنوری‬‮  2019 |

سیدنا عمرؓ کے زمانے میں ایک علاقے کا شہزادہ تھا۔ وہ گرفتار ہو کر پیش ہوا۔ حضرت عمرؓ چاہتے تھے کہ اس بندے کو قتل ہی کروا دیں کیونکہ اس نے مسلمانوں کے خلاف بہت ہی زیادہ مصیبت بنائی ہوئی تھی۔ چنانچہ آپ نے اسے قتل کرنے کا حکم دے دیا۔ جب قتل کا حکم دے دیا تو اس نے کہا، جی کیا آپ میری آخری تمنا پوری کر سکتے ہیں؟ آپ نے پوچھا، کون سی؟ اس نے کہا مجھے پیاس لگی ہوئی ہے لہٰذا پانی کا پیالہ دیجئے،

آپ نے حکم دیا کہ اسے پانی کا پیالہ پلا دو چنانچہ اسے پانی کا پیالہ دے دیا گیا۔ جب اس نے پانی کا پیالہ ہاتھ میں لیا تو کانپنا شروع کر دیا۔ حضرت عمرؓ نے پوچھا، بھئی! آپ کانپ کیوں رہے ہیں؟ کہنے لگا، مجھے ڈر لگ رہا ہے کہ میں ادھر پانی پینے لگوں گا اور ادھر جلاد مجھے قتل کر دے گا، اس لیے مجھ سے پیا ہی نہیں جا رہا۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا تو فکر مت کر جب تک تو یہ پانی نہیں پی لیتا اس وقت تک تجھے قتل نہیں کیا جائے گا۔ جیسے ہی آپؓ نے یہ کہا تو اس نے پانی کا پیالہ زمین پر گرا دیا اور کہنے لگا، جی آپ قول دے چکے ہیں، کہ جب تک میں اپنی کا یہ پیالہ نہیں پیوں گا آپ مجھے قتل نہیں کریں گے، لہٰذا اب آپ مجھے قتل نہیں کر سکتے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: ہاں میں نے قول دیا تھا لہٰذا اب میں تجھے قتل نہیں کرتا جیسے ہی آپ نے کہا کہ میں تجھے قتل نہیں کرتا تو اس وقت وہ کہنے لگا، جی اچھا آپ نے تو فرمایا کہ آپ مجھے قتل نہیں کریں گے لیکن میری بات سن لیجئے کہ آپ مجھے کلمہ پڑھا کر مسلمان بنادیجئے۔ آپ نے پوچھا، بھئی! آپ پہلے تو مسلمان نہیں بنے اب بن رہے ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ پہلے آپ میرے قتل کا حکم دے چکے تھے، اگر میں اس وقت کلمہ پڑھ لیتا تو لوگ کہتے کہ موت کے خوف سے مسلمان ہوا ہے، لہٰذا میں چاہتا تھا کہ کوئی ایسا حیلہ کروں کہ موت کا خوف ٹل جائے، پھر میں اپنی مرضی سے اسلام قبول کروں اور لوگوں کو پتہ چل جائے کہ اللہ کی رضا کے لیے اسلام قبول کیا ہے۔ تو مخلص بندے کا کام کبھی ادھورا نہیں رہتا بلکہ ہمیشہ رب العزت اس کو پورا کر دیتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…