جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈیورنڈ لائن کاتنازعہ،اہم افغان رہنمانے پاکستان کا موقف تسلیم کرنے کا اعلان کردیا

datetime 2  اپریل‬‮  2017 |

کابل (این این آئی)افغانستان کے ایک اہم رکن قومی اسمبلی لطیف پیدرم نے کہا ہے کہ ڈیورنڈ لائن پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد ہے۔ ٗکابل میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اعبد اللطیف پیدرم جن کا تعلق شمالی صوبہ بد خشاں سے ہے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کو سرحد کا احترام کر ناچاہیے ۔انہوں نے کہاکہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے باز رہیں ۔افغان

نیشنل کانگریس پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی نے کہاکہ ان کا پاکستان ٗ افغانستان ٗ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی برادری سے مطالبہ ہے کہ ڈیورنڈ لائن کو ایک تسلیم شدہ سرحد مان لیں ۔انہوں نے کہاکہ سرحد کو تسلیم کر نے سے خطے میں تنازعات ختم ہوسکتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ڈیورنڈ لائن کی وجہ سے پاکستان اورافغانستان کے درمیان کئی دہائیوں سے اختلافات چل رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان اس مسئلے پر مفاہمت دونوں ممالک اور خطے میں امن کا باعث بن سکتی ہے یاد رہے کہ افغانستان کے بادشاہ میر عبد الرحمن خان نے برطانوی سامراج سے 1892میں ڈیورنڈ لائن کے معاہدے پر دستخط کئے تھے جس کے تحت افغانستان اور برطانوی راج کے درمیان سرحد کی نشاہدی کر دی گئی تھی تاہم افغانستان کی حکومتوں کا اصرار ہے کہ یہ باضابطہ سرحد نہیں ایک لکیر ہے پاکستان کا موقف ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک تسلیم شدہ سرحد ہے کہ یہ باضابطہ سرحد نہیں ایک لکیر ہے پاکستان کا موقف ہے کہ ڈیورنڈ لائن ایک تسلیم شدہ سرحد ہے اوریہ باب بند ہو چکا ہے ۔سابق افغان صدر کے دور میں جب ڈیورنڈ لائن کامسئلہ اچھالا گیا تو اس وقت کے افغانستان اور پاکستان کیلئے امریکی خصوصی نمائندے مارک گراس مین نے کہا تھا کہ امریکہ ڈیورنڈ لائن کو سرحد تسلیم کرتا ہے امریکی وزارت خارجہ نے بعد میں گراس مین کے موقف کی تائید کی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…