اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کا چھپا ہوا خزانہ،2030ء تک کیا ہوجائیگا؟جاپانی ماہرین نے ناقابل یقین دعویٰ کردیا

datetime 5  فروری‬‮  2017 |

کراچی (این این آئی) پاکستانی اور جاپانی ماہرین نے قرار دیا ہے کہ تھر کوئلے کے ذخائر اگلے بارہ برس میں ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔2030ء تک تہر کے صحرا میں بہار آجائے گی جو پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی یہاں سے نکلنے والے کوئلے سے پاکستان میں ایندھن کی ضروریات پوری ہوں گی مگر اس سے بہی پہلے ملک میں موجود کوئلے کے استعمال کے روایتی طریقوں کے علاوہ اسکے جدید اور متبادل توانائی کے طور پر (انوویٹو ویلیوچین ) استعمال پر زور دینا ہوگا.

یہ بات انہوں نے گزشتہ روز پاکستان اکیڈمی آف انجینئرنگ اور جاپان کے ادارے نیو انرجی اینڈ انڈسٹریل ٹیکنالوجی ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (نیڈو) کے اشتراک سے مقامی ہوٹل میں منعقد ہونے والے ایک روزہ سمپوزیم بہ عنوان “انوویٹو تھرکول ویلیوچین “سے خطاب کرتے ہوئے کہی ان میں سابقہ وائس چانسلر جامعہ این ای ڈی اور پاکستان اکیڈمی آف انجینئرنگ کے صدر ڈاکٹر جمیل احمدخان، مسٹر جن کوئیکی،مسٹر کازونوری یونو اور ڈاکٹر ماساکی اونوذیکی شامل تہے.ان ماہرین نے بتایا کہ پاکستان کا ٹرانسپورٹ سسٹم مکمل طور پر مائع پیٹرولیم کی درآمدات پر انحصار کرتا ہیکسی ایک ذریعے پر انحصار کسی بہی نظام کو چلانے کے لیے پائدار حل نہیں اس لئے لازم ہے کہ متبادل ایندھن کے ذرائع پر انحصار بڑھایا جائے- انہوں نے کہا کہ ورلڈ انرجی کونسل نے دنیا بہر میں موجود کوئلے کے ذخائر میں سے 15 فیصد کے فوری اخراج کا تناسب رکہا ہے جبکہ پاکستان بین الاقوامی توانائی ایجنسی کے مطابق دنیا کے 8 کھرب ٹن کوئلے میں سے 7.8 کہرب ٹن پاکستان میں موجود ہے جو پاکستان کے ٹرانسپورٹ سسٹم کو چلانے کے لیے کافی ہے. ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کیمیکل انڈسٹری کے لئے کوئلہ نہایت سستی توانائی ہے جبکہ کہاد کی صنعت میں پاکستان میں نکلنے والی قدرتی گیس کا اٹہارہ فیصد بطور ایندھن استعمال ہو رہا ہے جو باآسانی کوئلے پر منتقل ہو سکتا ہے-

اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر احمد حسین کا کہنا تہا کہ تکنیکی مطالعے کے نتیجے میں واضح ہوتا ہے کہ تہر کول سے امونیا، یوریا،میتہانول،ہائیڈروجن گیس اور ٹرانسپورٹیشن آئل حاصل کیا جاسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…