حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک واقعہ سناتے ہوئے بتایا کہ آپ کے سامنے ایک علمی بات پیش کرتا ہوں جو علماء اور طلباء کیلئے بہت مزے کی بات ہو گی‘ اللہ تعالیٰ کے دو پیغمبروں جن کا قرآن مجید میں بھی تذکرہ ہے اور ان دونوں نے مردوں کو زندہ ہونے کے بارے میں سوال کیا مگر سوال کاانداز مختلف تھا‘ ایک حضرت عزیر علیہ السلام تھے انہوں نے جب مردوں کو دیکھا تو اس وقت اللہ تعالیٰ سے پوچھا کہ اے پروردگار
’’اس کو کس طرح زندہ کرے گا اس کے مرنے کے بعد‘‘۔ انہوں نے پوچھا مگر اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے انہی کو موت دیدی اور وہ ایک سو سال تک اسی حالت میں رہے‘ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا۔دوسرے حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے۔ انہوں نے بھی مردوں کے زندہ ہونے کے بارے میں سوال کیا‘ ان کا سوال پوچھنے کا انداز یہ تھا کہ اے اللہ! آپ مردوں کو کیسے زندہ فرمائیں گے؟ انہوں نے ’انی‘ کا لفظ استعمال کیا اور ادھر ’’کیف‘َ‘ کا لفظ استعمال کیا گیا‘ کیف کے لفظ میں سوالیہ بات ہے اس میں کوئی تعجب ظاہر نہیں ہوتا کہ جی ان کو کیسے زندہ کریں گے‘ بلکہ فقط ایک سوال پوچھا اسی لئے جب پوچھا ’اولم تؤمن‘ کہ کیا آپ اس بات پر ایمان نہیں لائے تو جواب میں فوراً عرض کیا اے اللہ! مانتا ہوں ایمان ہے ’’ولکن لیطمئن قلبی‘‘ میں نے تو اپنے دل کے اطمینان کے لئے سوال کیا ہے چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ’’کیفَ‘‘ کے لفظ کے ساتھ سوال پوچھا اس لئے پروردگار عالم نے کسی غیر پر موت کو طاری کیا اور پھر اس کو زندہ کر کے ان کے سامنے معجزہ دکھا دیا جبکہ حضرت عزیر علیہ السلام نے سوال پوچھتے ہوئے تعجب کے ساتھ پوچھا‘ جیسے اس بات پہ بڑے حیران ہو رہے ہوں کہ ’’انی یحی ھذہ اللہ بعد موتھا‘‘چونکہ
تعجب پایا جاتا تھا اس لئے پروردگار نے غیر پر موت طاری کرنے کی بجائے انہی پر موت طاری کر دی اور سو سال تک آرام سے سلا دیا‘ پھر زندہ کر کے پوچھا کہ اے میرے پیغمبر اب بتائیے۔اس ساری تفصیل کا حال یہ نکلا کہ ایک لفظ کی تبدیلی سے دونوں کے ساتھ معاملہ علیحدہ علیحدہ ہوا‘ اس سے معلوم ہوا کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ جیسا گمان کرے گا پروردگار کا اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ ہو گا لیکن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے بھی چونکہ سوال تو پوچھا تھا اس لئے سوال پوچھنے کی کوئی تو قیمت دینی پڑنی تھی‘
کیونکہ باقی انبیاء بھی تو تھے جنہوں نے سوال ہی نہیں پوچھا تھا‘ اس لئے تمام انبیاء میں سے اللہ تعالیٰ نے کسی سے وہ قربانی نہ مانگی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے مانگی‘ گویا اللہ تعالیٰ نے فرمایا‘ اے پیارے خلیل! میں نے مردوں کو زندہ تو کر کے آپ کے سوال کا جواب دے دیا لیکن چونکہ سوال پوچھا تھا اس لئے اس کی قیمت بھی دیتے جائیے۔ اب آپ کو اپنے بیٹے کو اپنے ہاتھوں سے شہید کر کے دکھانا پڑے گا۔

























