حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی نے ایک بیان میں بتایا کہ ایک مرتبہ ہم امریکہ میں نماز پڑھ کر مسجد سے باہر نکلے‘ سامنے مین روڈ تھا‘ ہم دو آدمی آپس میں بات چیت کر رہے تھے‘ سامنے سڑک پر ایک خاتون تیزی کے ساتھ کار چلاتی ہوئی گزری لیکن چند میٹر آگے جا کر اس نے بریک لگا دی اس نے گاڑی موڑی اور ایک دو منٹ میں اس نے ہمارے قریب آ کر گاڑی کھڑی کر دی
وہاں عام طو رپر ایسا ہوتا ہے کہ آدمی جس منزل پر جا رہا ہو اس کے پاس اس کا پورا ایڈریس نہ ہو تو اسے پوچھنے کی ضرورت پیش آتی ہے چنانچہ ہم نے سوچا کہ ممکن ہے کہ یہ امریکن عورت راستہ بھول گئی ہو اور ہم سے کوئی پتہ معلوم کرنا چاہتی ہو۔میں نے اپنے ساتھ دوست واولی سے کہا کہ آپ جائیں اور اس سے پوچھیں کہ آپ کو ڈائریکشن کی ضرورت ہے؟جب اس نے جاکر پوچھا تو وہ کہنے لگی نہیں میں تو اپنے گھر جا رہی ہوں اور گھر کی ڈائریکشن تو ہرایک کو آتی ہے ہمیں کیا پتہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس کو دنیا کے گھر کی بجائے اصلی گھرکا راستہ دکھانا چاہتے تھے اس نے جب کہا کہ میں اپنے گھر جا رہی ہوں تو ہمارے دوست نے پوچھا کہ پھر آپ نے یہاں کیوں بریک لگائی؟اس کے جواب میں وہ کہنے لگی کہ یہ بندہ کون ہے؟اس نے کہا کہ یہ بندہ مسلمان ہے۔وہ کہنے لگی کہ اس سے پوچھو کہ کیا یہ مجھے بھی مسلمان بنا سکتے ہیں؟ نہ نام کا پتہ اور نہ ہی ایڈریس کا پتہ فقط نبی علیہ السلام کی سنتوں کو دیکھا اور اللہ تعالیٰ نے اس کے دل میں ایسی تاثیرڈال دی کہ وہیں گاڑی میں بیٹھے بیٹھے اس نے کلمہ پڑھ لیا۔اس عاجز نے اسے اپنا رومال دے دیا جس کو اس نے اپنا دوپٹہ بنا لیا اور پھر اپنے گھر کو روانہ ہو گئی۔

























