علم و ادب میں امام اصمعی کا جو مرتبہ تھا وہ بھلا اہل نظر سے پوشیدہ کیسے رہ سکتا تھا اور وہ بھی ہارون الرشید جیسے صاحب علم اور علما ءکے قدر دان سے ۔ ہارون اصمعی کا بہت ادب کرتا۔ وہ جانتا تھا کہ مملکت کا استحکام اور ترقی علوم کی اشاعت اور علماء کی قدر و منزلت سے وابستہ ہے۔ وہ خود تو صاحب علم تھا ہی اس نے اپنے بیٹوں کو بھی زیور علم سے آراستہ کرنے کی بھرپور کوشش کی۔
چنانچہ اس نے مامون الرشید کو علم و ادب کی تعلیم کے لئے امام اصمعی کے سپرد کر دیا اور یہ سمجھ کر کہ مامون آئندہ چل کر ایک حکمران بننے والا ہے۔ اصمعی نے اسے دین و دنیا کے تمام ضروری علوم و آداب سے روشناس کرانا شروع کیا۔ امام اصمعی نے تعلیم کے ساتھ مامون کی تربیت پر بھی کافی زور دیا تھا اس لئے تعلیم بغیر صحیح تربیت کے بے برگ و بار اور بے اثر ہوا کرتی ہے۔ اتفاقاً ایک دن ہارون کے دل میں خیال آیا کہ مامون کو دیکھنا چاہیے کہ کس حال میں ہے تو وہ سیدھا امام اصمعی کی قیام گاہ کی طرف گیا۔ وہاں کیا دیکھا کہ امام اصمعی اپنے پاؤں دھو رہے ہیں اور مامون پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے۔ یہ دیکھ کر ہارون کا چہرہ متغیر ہو گیا اور سخت ناراضگی کی کیفیت اس پر طاری ہو گئی۔ اصمعی نے سمجھا کہ چونکہ میں شہزادے سے خدمت لے رہا ہوں شاید یہ بات خلیفہ ہارون الرشید کو ناگوار گزری ہے۔ کیونکہ شہزادہ پھر بھی تو شہزادہ ہی ہوتا ہے۔ ہارون سخت برہمی کی حالت میں بولا۔ حضرت میں نے تو شہزادے کو اس لئے آپ کی خدمت میں بھیجا تھا کہ آپ اسے ادب سکھائیں گے۔ مگر یہاں تو صورت حال ہی کچھ اور ہے۔ اب اصمعی کا شک یقین میں بدل گیا اور وہ سمجھ گئے کہ شہزادے سے خدمت لینا ہارون کو ناگوار گزرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خلیفہ میں نے علم سکھانے اور تربیت کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی تو نہیں برتی ہے۔ آپ کو شکایت کیا ہے؟ خلیفہ نے کہا۔
امام آپ اپنے ہاتھ سے اپنا پاؤں دھو رہے ہیں اور شہزادہ پاؤں پر پانی ڈال رہا ہے آپ نے شہزادے کو یہ حکم کیوں نہیں دیا کہ ایک ہاتھ سے وہ آپ کا پاؤں دھوئے اور دوسرے ہاتھ سے پاؤں پر پانی انڈیلے۔ علم اللہ کا نور ہے۔ یہ بغیر استاد کی اطاعت، اس کی خیر خواہی، احترام اور خدمت کے حاصلنہیں ہو سکتا۔ مہربانی فرما کر آئندہ آپ شہزادے سے خدمت لینے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ فرمائیں۔ استاد کے ادب اور خدمت کی وجہ سے یہی مامون آگے چل کر افق اقتدار پر آفتاب و ماہتاب بن کر چمکا اور اس کے علم و فراست کا بڑےبڑے علماء کو اعتراف کرنا پڑا۔

























