اتوار‬‮ ، 30 اگست‬‮ 2026 

فضائی حادثے کی صورت میں جان بچانے کے لیے کیا کرنا چاہئیے؟

datetime 5  مارچ‬‮  2015 |

برمنگھم (نیوز ڈیسک) میڈیا میں فضائی حادثات کو عموماًبہت خوفناک طریقے سے پیش کیا جاتا ہے مگر فضائی امور کے ماہرین کہتے ہیں کہ اصل میں محض پانچ فیصد حادثات غیر معمولی حد تک جان لیوا ہوتے ہیں جبکہ تقریباً تقریباً 95 فیصد حادثات میں مسافر مناسب اقدامات بروقت کرنے پر اپنی جان بچا سکتے ہیں۔ مصنف بین شیرووڈ کی کتاب “The Survivor’s Club” میں فضائی حادثے کی صورت میں جان بچانے کیلئے اہم ترین اقدامات بیان کئے گئے ہیں جن کا نچوڑ آپ کیلئے پیش خدمت ہے۔

 فضائی حادثات میں زیادہ تر ہلاکتیں جہاز کے گرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں آگ لگنے کی وجہ سے ہوتی ہیں اور اس آگ کے بھڑکنے اور سب کچھ لپیٹ میں لیسے سے قبل آپ کے پاس صرف ڈیڑھ منٹ ہوتا ہے۔ اوسطاً ڈیڑھ منٹ کے بعد آپ اس قدر پھیل جاتی ہے کہ اس میں نکلنا ممکن نہیں رہتا لہٰذا کوشش کریں کہ ڈیڑھ منٹ کے دوران طیارے سے باہر نکلیں۔

فضائی حادثوں میں بچنے والوں پر کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ صحتمند اور مضبوط جسم کے مالک لوگوں کے بچنے کا امکان زیادہ جبکہ موٹے اور کمزور لوگوں کے بچنے کا امکان کم ہوتا ہے لہٰذا اپنی صحت اور جسمانی حالت کو زیادہ سے زیادہ فٹ رکھیں۔

 سفر کیلئے بڑے جہاز کے انتخاب کی کوشش کریں۔ ان کے حادثات میں مسافروں کے بچنے کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

جہازوں کے پروں کے قریب ایمرجنسی دروازے بنائے جاتے ہیں لہٰذااگر آپ ایمرجنسی دروازے کے دونوں اطراف والی سیٹوں کی پانچ پانچ قطاروں میں سے کسی میں بیٹھے ہیں تو بچنے کا امکان زیادہ ہے، یعنی کوشش کریں کہ طیارے کے درمیانی حصے میں سیٹ لے سکیں۔

 خطرات کیلئے تیار رہیں کیونکہ اگر آپ خود کو مکمل طور پر محفوظ اور سلامت ماحول میں محسوس کریں گے تو ایمرجنسی میں آپ کے دماغ کو تیار ہونے میں وقت لگے گا۔

طیاروں کے 80 فیصد حادثات ٹیک آف کے 3 منٹ بعد یا لینڈنگ سے 8 منٹ پہلے ہوتے ہیں لہٰذا اس وقت کے دوران سوئیں مت، جوتیں پہن کر رکھیں، سیٹ بیلٹ باندھیں اور خطرات کیلئے تیار رہیں۔

 بلندی پر پرواز کے دوران ایمرجنسی واقع ہونے کی صورت میں آکسیجن کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے لہٰذا جونہی آکسیجن ماسک آپ کے سامنے گرے اسے فوراً پہن لیں۔

ایمرجنسی کی صورت میں سرجھکا کر جسم کو گولائی میں لے آئیں۔

 ایمرجنسی کی صورت میں اپنے سامان اور دیگر اشیاءکے بارے میں ہرگز مت سوچیں، محض اپنی اور اپنے ساتھ موجود بچوں اور عزیزوں کی جان کے متعلق سوچیں اور فوری ایکشن لیں۔ سوچنے میں وقت ضائع نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…