بدھ‬‮ ، 27 مئی‬‮‬‮ 2026 

تارکِ صلوۃ ولی نہیں بن سکتا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

حضرت سید جلال الدین بخاری مخدوم جہانیاں جہاں گشتؒ نے اپنے ملفوظات میں یہ واقعہ درج کیا ہے کہ میں مکہ معظمہ کی زیارت کے بعد بھکر واپس آیا تو وہاں کے لوگوں نے مجھے بتایا کہ قصبہ الور کے قریب ایک پہاڑ کے غار میں ایک درویش رہتا ہے۔ جو یہ دعویٰ کرتا ہے کہ خداوند کریم نے اس کو نماز معاف کر دی ہے۔ میں یہ سن کر اس درویش کے پاس گیا وہاں دیکھا کہ اس کے گرد بڑے بڑے امراء اور اکابر جمع تھے۔

میں ان میں سے گزرتا ہوا اس درویش کے سامنے جا کر بیٹھ گیا۔ سلام اس کو میں نے دانستہ نہیں کیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ تم نماز کیوں نہیں پڑھتے۔ سرور دوعالمﷺ کا ارشاد مبارک ہے۔’’ترجمہ! یعنی مومن اور کافر کے درمیان صرف نماز ہی فرق کرتی ہے‘‘۔ درویش نے جواب دیا سید صاحب میرے پاس جبرائیلؑ آتے ہیں۔ بہشت کا کھانا لاتے ہیں خدا تعالیٰ کا سلام دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تم کو نماز معاف کر دی گئی ہے اور تم خاصان خدا میں شامل ہو گئے ہو‘‘۔مجھے اس کی باتیں سن کر بہت غصہ آیا اور میں نے اس سے کہا، بیہودہ مت بکو سردار انبیاءﷺ کے لئے تو نماز معاف نہیں ہوئی۔ تجھ جیسے جاہل کے لئے کیسے ہو سکتی ہے۔ تیرے پاس جبرائیلؑ نہیں بلکہ شیطان آتا ہے اور کہتا ہے میں جبرائیلؑ ہوں جبرائیل علیہ السلام وحی کے فرشت ہیں وہ انبیاء اور رسل کے سوا کسی اور پاس کے نہیں آتے اور جو کھانا تمہارے پاس آتا ہے وہ غلاظت ہوتی ہے۔ درویش نے کہا کہ وہ کھانا بہت لذیذ ہوتا ہے۔ میں نے کہا کہ اس کی حقیقت تجھے بہت جلد معلوم ہو جائے گی اب جب وہ نام نہاد فرشتہ تیرے پاس آئے تو تم لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم پڑھنا۔ یہ تاکید کر کے اپنی قیام گاہ پر واپس آگیا۔ دوسرے دن جب میں اس دروپیش کے پاس گیا

تو وہ میرے پاؤں پر گر پڑا اور کہنے لگا کہ میں نے آپ کے کہنے کے مطابق عمل کیا۔ جب وہ نام نہاد فرشتہ آیا تو میں نے لاحول پڑھی وہ اسی وقت وہاں سے غائب ہو گیا اور اس کا لایا ہوا کھانا میرے ہاتھ سے گر پڑا اور میرے سارے کپڑے ناپاک ہو گئے۔ یہ سن کر میں نے اس بے نماز درویش سے توبہ کرائی اور جو نمازیں ترک ہو چکی تھیں ان کی قضا پڑھوائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اللہ سے خوش قسمتی مانگو


’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…