ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

راولپنڈی تشدد،بڑی قربانیاں درکار ہونگی۔۔! طاہر القادری بھی میدان میں آگئے

datetime 28  اکتوبر‬‮  2016
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لندن /لاہور(این این آئی )پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ گزشتہ دو روز کے واقعات ملکی تاریخ کا سیاہ باب ہیں،ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں نے اپنے ناجائز اثاثوں کے تحفظ کیلئے مزید سانحات برپا کرنے کی ٹھان رکھی ہے، اگلا کریک ڈاؤن میڈیا کے خلاف ہو گا۔عمران خان اور شیخ رشید نے کیا جرم کیا کہ ان پر اپنے ہی وطن کی زمین تنگ کی جارہی ہے، راولپنڈی کی سڑکوں پر جمہوریت کو گھسیٹا اوربیٹیوں کے منہ پر تھپڑ مارے جارہے ہیں،ہماری دو بیٹیوں تنزیلہ اور شازیہ کو شہید کرنے والے قاتلوں کو سزا مل جاتی تو مزید کسی بیٹی پر غیر ہاتھ نہ اٹھتا،اگر غنڈہ گردی ،لوٹ مار ،شہریوں کی تذلیل اور انہیں انصاف اور آزادی اظہار کے حق سے محروم رکھنے کا نام جمہوریت ہے تو ایسی جمہوریت پر سو بار لعنت۔کیا ملکی اداروں کا کام سیاست کے کرپٹ کرداروں کو تحفظ دینا رہ گیا ہے؟

وہ گزشتہ روز لندن میں مقامی تنظیمی عہدیداروں کے ایک اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ شریف برادران اپنے ناجائز اقتدار اور اثاثوں کو تحفظ دینے کیلئے کسی حد تک بھی گر سکتے ہیں۔سانحہ ماڈل ٹاؤن اس کی ایک بڑی مثال ہے۔یہ قاتل برادران چاہتے ہیں کہ ہم ملکی خزانہ لوٹیں یا بے گناہوں کو دن دیہاڑے قتل کریں افواج پاکستان کو بدنام کریں یا عدالتوں پر حملے کریں ،ضمیروں کی بولیاں لگائیں یا غریب عوام کو بنیادی سہولتیں دینے کی بجائے قومی دولت لوٹ مار کے منصوبوں پر خرچ کریں کوئی ان کے فیصلوں کو چیلنج کرنے والا نہ ہو۔کوئی ادارہ ان سے سوال کرنے والا نہ ہو۔انہوں نے کہا کہ ملکی صورتحال پر پوری نظر ہے

۔دونوں جماعتوں کے درمیان رابطہ ہے مناسب وقت پر اپنا فیصلہ سنا دوں گا تاہم اب قاتل اقتدار کی بیساکھیاں بننے والے پولیس سمیت حکومت کے جملہ ماتحت اداروں کے سربراہان بھی اپنے انجام کو پہنچیں گے۔حکومت مافیا کا روپ دھار چکی ہے ۔سیاسی آزادیاں سلب کر لی گئیں ۔کسی ادارے میں اتنی جرأت نہیں کہ وہ ان قاتلوں سے پوچھے کہ ماڈل ٹاؤن میں 100 لوگوں کو گولیوں کیوں ماریں، ملکی دولت لوٹ کر لندن میں محلات کھڑے کیوں کیے اور اس لوٹ مار کا جواب کیوں نہیں دیتے۔انہوں نے کہا کہ عوام نے ان قاتلوں کو اپنے اوپر مسلط کیا اب ان سے جان چھڑانے کیلئے بڑی قربانیاں درکار ہونگی۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…