جمعہ‬‮ ، 11 ستمبر‬‮ 2026 

حالات کشیدہ ، ہائیکورٹ میدان میں کود پڑی ، حکومت کو بڑا حکم جاری کر دیا

datetime 28  اکتوبر‬‮  2016 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) اسلام آبادہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان کو ہراساں اور پکڑ دھکڑ کرنے سے روک دیا۔ گرفتار کارکنان کی فہرست بھی طلب کرلی۔آئی جی اسلام آباد پولیس سمیت دیگر فریقین کو 31اکتوبر کو طلب کر لیاگیا۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز نے پی ٹی آئی کارکنان کی گرفتاری کے خلاف درخواست کی سماعت کی ۔ پولیس کو پی ٹی آئی کارکنان کو ہراساں اور پکڑ دھکڑ روکنے کا حکم دیدیا ہے جبکہ شہر بھر سے کنٹینر کو بھی فوری طور پرہٹانے کا حکم دے دیا گیا ہے۔عدالت نے جمعرات کی شب گرفتارکئے گئے کارکنان کی فہرست بھی طلب کرلی ہے۔ گرفتاریوں بارے عدالت نے ریمارکس دئیے کہ گرفتار کارکنان نے کس قانون کی خلاف ورزی کی، بتایا جائے۔ دوران سماعت جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے استفسار کیا کہ پرامن احتجاج کریں گے یا اسلام آباد بند کریں گے؟آپ کے احتجاج اور اظہار رائے کو تسلیم کرتے ہوئے فیصلہ دیا، آپ نے عدالت کو ہی مورد الزام ٹھہرایا،آپ عدالت کے حکم کو مانیں گے یا نہیں؟ وکلاء نے یقین دہانی کروائی کے قانون کی حکمرانی کے لیے احتجاج کر رہے ہیں اور عدالت کے حکم کو من وعن تسلیم کریں گے۔ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دئیے کہ عدالت کو اپنے حکم پر عملدرآمد کروانا آتا ہے،عدالت نے ایک بار پھر واضح کیا کہ کوئی کنٹینرز نہ لگائیں،کوئی پکڑدھکڑ نہ کریں،اگر کوئی جرم کرتا ہے۔۔قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے تو مقدمہ درج کر کے کارروائی کریں،عدالت نے پھر کہا کہ اسلام آبا د کو نہ پی ٹی آئی بند کرے گی نہ حکومت۔عدالت نے آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو ہدایات جاری کیں کہ گرفتار افراد کی فہرستیں پیش کریں اور یہ بھی بتائیں کہ ان افراد کو کن مقدمات میں گرفتار کیا گیا،ضلعی انتظامیہ سڑکیں بلاک نہیں کرے گی اور قانون کے دائرہ میں رہتے ہوئے کام کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید سماعت اکتیس اکتوبر تک ملتوی کر دی۔واضح رہے کہ گزشتہ شب اسلام آباد کے سیکٹر ای الیون میں تحریک انصاف کے یوتھ کنونشن پر پولیس نے دھاوا بول دیاتھا اور درجنوں کارکنان کو گرفتار کر لیا گیا تھا ۔جس پر تحریک انصاف کے رہنماؤں نے ہائیکورٹ اسلام آبادسے رجوع کر لیا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤ ں نے عدالت سے یہ بھی استدعا کی تھی کہ جسٹس شوکت عزیزصدیقی کو سماعت کیلئے مقررنہ کیا جائے۔( مہر علی خان)



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…